رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: رامنی کی خارجہ حکمت عملی

  • واشنگٹن

صدارتی انتخابات میں ری پبلکن مدِ مقابل کو خارجہ حکمت عملی کا کوئی تجربہ نہیں ہے، اور اِس میدان میں اُن کی انتخابی مہم کی ابتدائی مساعی سے کوئی اچھا نتیجہ برآمد نہیں ہوا : یو ایس اے ٹوڈے

اخبار ’یو ایس اے ٹوڈے ‘ نےصدر اوبامہ اور ان کے ری پبلکن مد مقاببل مٹ رامنی کی خارجہ حکمت عملی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٕمٹ رامنی کو خارجہ حکمت عملی کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور اِس میدان میں اُن کی انتخابی مہم کی ابتدائی مساعی سے کوئی اچھا نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

مثلاً، اُنہوں نے لندن اولمپکس کے انتظامات میں مین میخ نکال کر برطانیہ کے بیشتر لوگوں کی ناراضگی مول لی اور ستمبر میں انہوں نے لبیا میں امریکی سفیر کے قتل کو سیاسی رنگ دے کر اناڑی پن کا ثبوت دیا۔

اخبار کے بقول، مٹ رامنی کو اصلاح احوال کی ضرورت تھی اور اس لئے پیر کو انہوں نے خارجہ حکمت عملی پر تقریر کی۔ اس میں انہوں نے امریکہ کی طاقت اور عالمی امور میں اس ملک کے کردار کے بارے میں جو باتیں کیں، اُن سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا اور ان کی تنقید کے بعض نکات بجا تھے۔

اور جیسا کہ اخبار کہتا ہے اوبامہ انتظامیہ نے اس کا کوئی تسلّی بخش جواب نہیں دیا ہے کہ بن غازی میں امریکی قونصل خانے میں سیکیورٹی کے انتظامات کیوں اتنے ناقص تھے۔ اور یہ کہ انتظامیہ کو کیوں اس پر اصرار رہا ہے کہ یہ حملہ اسلام کے خلاف گُستاخانہ وڈیو کے خلاف مسلمانوں کے غم و غصّے کا اظہار تھا اور ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ نہیں تھا۔

لیکن، اخبار کہتا ہے کہ بڑےبڑے عالمی مسائیل پر، مثلاً افغانستان کی جنگ یا چین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں، انہوں نے اوبامہ سے جس اختلاف کا اظہار کیا وُہ لہجے کا اختلاف تھا، تفصیلات کا نہیں۔ عراق کے بارے میں رامنی کی رائے یہ تھی کہ امریکی فوجوں کو وہاں زیادہ عرصے رہنا چاہئیے تھا۔ لیکن، وہ یہ بھول گئے کہ اوبامہ نے جس معاہدے کے تحت عراق سے فوجیں ہٹائیں وہ بُش انتظامیہ نے طے کیا تھا۔

اِسی طرح، شام کے بارے میں رامنی کو جو اصرار ہے کہ امریکی انتظامیہ کو بشار الاسد کی ظالم حکومت کو ہٹانے کے لئےزیادہ کُچھ کرنا چاہئیے تھا۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایسی کون سی چیز ہے جو انتظامیہ پہلے ہی سے نہیں کر رہی۔

اخبار کہتا ہے کہ صدر اوبامہ بالوضاحت کہہ چکے ہیں کہ ایران کا جوہری بم حاصل کرنا کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تو کیا رامنی اس کا فیصلہ اسرائیل کے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں جس سے امریکہ کو جنگ کرنے پر مجبور کیا جائےاور پھر وہ کیونکر اپنا دوسرا مقصد یعنی فلسطینی مملکت کا قیام حاصل کر سکیں گے؟

اخبار نے رامنی کے محاذ آرائی کے لہجے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے کب بے عملی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اس وقت بھی دو جنگیں لڑ رہا ہے: ایک افغانستان میں اور دوسری القاعدہ کے خلاف اور اُسے مزید ایک اور جنگ لڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔

’انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹریبیون‘ اخبار کہتا ہے کہ ستمبر کے مہینے میں روزگار سے متعلّق جو اعدادو شمار فراہم کئے گئے ہیں وُہ حکومت کی پالیسی سے بر آمد ہونے والے اہم نتائج کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اخبار کے خیال میں ان اعداد و شمار سے نہ صرف معیشت میں بہتری کی نشان دہی ہوتی ہے، بلکہ ان سے روزگار کے مواقع برقرار رکھنے، بلکہ ان میں مزید مواقع پیدا کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی طرف سے مزید سرمایہ لگانے کی ضرورت بھی اُجاگر ہوتی ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ کانگریس کے ری پبلکن ارکان اور ان کے صدارتی امّید وار، مٹ رامنی یہ پیسہ لگانے کی مخالفت کرتے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ طویل المیعاد بے روزگاری اُس بھاری کساد بازاری کی پیدوار ہے جس میں امریکہ سنہ 2007 سے لے کر سنہ 2009 تک مُبتلا رہا ،بے روزگاری کی اتنی بھاری شرح اس بات کی متقاضی ہے کہ بے روزگاری کے شکار لوگوں کو وفاقی مراعات دی جائیں۔ یہ مراعات اس وقت دی جاتی ہیں جب متعلّقہ ریاست سے ملنے والی ایسی ہی مراعات ختم ہو جائیں ، جس میں تقریباً چھبیس 26ہفتے لگتے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ وفاقی مراعات کی رقم اس سال کے اواخر تک ختم ہو جائے گی، اور اگر ان کو توسیع نہ دی گئی تو کرسمس کی تعطیلات کے دوران بیس 20 لاکھ مزدور اس سے محروم ہو جائیں گے۔

صدر اوبامہ نے ان مراعات کو توسیع دینے کی پُرزور حمائت کی ہے ۔ لیکن، ری پبلکنز کو اصرار ہے کہ یہ مراعات، بقول اُن کے، اتنے فیاضانہ نہیں ہونے چاہئیں۔

اخبار کہتا ہے کہ اگر ان مراعات کی توسیع نہ ہوئی یا اُنہیں بند کر دیا گیا تو یہ اس کے خیال میں ایک سنگین غلطی ہوگی، معیشت صارفین کے اہم خرچ سے محروم ہو جائے گی۔ اور غریب لوگ سنگین مشکلات میں گرفتا رہو جائیں گے۔

پیر کو امریکہ بھر میں کرسٹو فر کولمبس کا دن منایا گیا جس کو اس دُنیا کے مغربی نصف حصے کی دریافت کا سہرا جاتا ہے۔ اِسی موضوع پر پٹس برگ ٹریبیون ریویو کہتا ہے کہ کولمبس نے سنہ 1492 میں مشرق کی طرف رخت سفر باندھنے کی روائت کو توڑ کر مغرب کا رُخ کیا ، اور جب اس نے اس نئی دنیا میں قدم رکھا تو اس نے اس میں دولت کے وُہ خزانے پائے جو کسی کے وہم و گُماں میں بھی نہ آ سکتے تھےاور جن کا یورپی باشندوں کوقطعاً کوئی علم نہ تھا۔ اور یہی وہ دولت ہے جس نے بالآخر انسانی تہذیب کو ایک نئی جہت بخشی۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکہ کی صلاحیتوں کو بروئےکار لانا غلطیوں سے پاک نہیں تھا ۔ إن غلطیوں سے بھی بڑے کٹھن سبق سیکھے گئے۔ لیکن، اگر ہم اُن غلطیوں کو نئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی راہ میں رکاوٹ بننے دیں گے تو پھر جُستجو کا جذبہ مرجائے گا۔ امریکیوں نے برّاعظم کی وسعتوں کو چھان مارا اور وہ چاند تک پہنچ گئے۔ لیکن، آج ہم گھٹیا باتوں میں پھنسے ہوئے لگتے ہیں۔ خطرہ مول لینےسے عاری ہیں۔

اخبار کہتاہے کہ بجائے اس کہ ہم اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی دنیا پر اکتفا کریں، ہمیں دیکھنا چاہئیے کہ آج کی دُنیاؤں کے پاس ہمارے لئے کیا کیا ہے اور کولمبس کی طرح ہمیں چاہئیے کہ جس اُفق سے ہم مانوس ہیں اُس سے ماوریٰ جہانوں کی تلاش میں رہیں۔
XS
SM
MD
LG