رسائی کے لنکس

بڑھتی ہوئی افرا تفری نے طالبان کی سرگرمیوں کے لئے آسانیاں پیدا کردی ہیں اور ملک کے اس اقتصادی محور کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بُحیرہٴ عرب کے ساحل پر واقع اِس شہرکا قافیہ عرصہٴدراز سےمذہبی، فرقہ وارانہ اور نسلی فسادات نے تنگ کر رکھا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تشدّد کی بڑھتی ہوئی وارداتوں سے متعلّق امریکی اخبارات میں ایسو سی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ چھپی ہے جس کے مطابق یہ سال اِس شہر کے لئے اِن وارداتوں کی وجہ سے بد ترین برسوں میں سے ایک ثابت ہوا ہے۔

إِن کے نتیجے میں، بڑھتی ہوئی افرا تفری نے طالبان کی سرگرمیوں کے لئے آسانیاں پیدا کر دی ہیں اور ملک کے اس اقتصادی محور کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بُحیرہٴ عرب کے ساحل پر واقع اس شہرکا قافیہ عرصہ ٴدراز سےمذہبی ، فرقہ وارانہ اور نسلی فسادات نے تنگ کر رکھا ہے۔سیاسی پارٹیوں کے مسلّح دستے شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں، شیعہ اور سنّی مسلک کے افراد ایک دوسرے کے خلاف انتقامی جھڑپوں میں مارے جاتے ہیں ، جب کہ طالبان بندوق بردار بنکوں پر حملے کرتے رہتے ہیں اور پولیس والوں کو جان سے مار دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اگلے سال ہونے والے عام انتخابات کے پیشِ نظر تشدّد زیادہ سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ جرائم پر قابو پانے کے لئے شہریوں اور پولیس کے درمیان رابطے کی کمیٹی کے اعدادو شُمار کے مطابق اِس سال نومبر کے مہینے 1994 تک افراد تشدد کی بھینٹ چڑھ چکے تھے اور ایسا لگ رہا ہے کہ طالبان اِس کا فائدہ اٹھاتے ہوئےزیادہ تعداد میں کراچی پہنچ رہے ہیں جہاں وُ ہ پاکستانی فوج کی کاروائیوں اور امریکی ڈرون حملوں سے اپنے آپ کو محفوظ فاصلے پر محسوس کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حالیہ سماعتوں کے دوراِن ان اطلاعات کی تفتیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی تھی کہ شہر میں آٹھ ہزارطالبان موجود ہیں۔

سیکیورٹی کے عہدہ داروں کے حوالے سےرپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کا کراچی میں پیسہ اکٹھا کرنے کا طریق کار ہے بنکوں اور اےٹی ایم مشنیوں کو لوُٹنا اور لوگوں سے پیسے اینٹھنا۔ اِس کے علاوہ ، وہ لوگوں کو اپنی صفوں میں بھرتی بھی کرتے ہیں۔

کراچی کے مسائل کی وجہ اس کی آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہے۔1947ءمیں یہ آبادی محض سوا تین لاکھ تھی جو اب بڑھ کر ایک کروڑ اسّی لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

پچھلے سال سیاسی پارٹیوں کے مسلح دستوں کی دُو بدُو جھڑپوں میں محلے کے محلےباقی ملک سے کٹ گئے تھے، بچے سکول نہ جا سکے تھے اور لوگوں کو سودا سلف خریدتے ہوئے گولی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اس سال، اس رپورٹ کے مطابق، تشدّد زیاد ہ علاقوں میں پھیل گیا، کاروباری طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور کراچی کے تاجروں کی انجمن کے سربراہ کے مطابق بیس اور پچیس ہزار کے درمیان تاجر علاقہ چھوڑ کر جا چُکے ہیں۔کاروبار کےنقصان کا تخمینہ ایک کروڑ ڈالر یومیہ ہے اور تاجروں نے اپنی حفاظت کے لئے گارڈ رکھنا یا ہتھیار رکھنا شروع کیا ہے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ ایک ادارئے میں کہتاہے کہ امریکی اور یورپی گاہکوں کے لئے سلےسلائے کپڑے بنانے والی دو ایشائی فیکٹیروں میں آتش زدگی کی وارداتوں میں تقریبا ً 400 مزدور وں کی موت سے صارفین کو دُکھ ہونا چاہئیے اور ایسی فیکٹریوں میں حفاظت کے بہتر انتظامات کے لئے آواز بلند ہونی چاہئیے۔

اخبار یاد دلاتا ہے کہ جس طرح1911 ءمیں نیو یارک کی فیکٹری میں آگ لگنے کی ایک واردات کے بعد امریکہ کے صنعتی ضابطوں میں دور رس اصلاحات کی گئی تھیں اُسی طرح اِن المیوں کے بعد اُن ترقّی پذیر ملکوں میں بھی دور رس تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے جو اب مغربی دنیا کے لئے سلے سلائے کپڑوں کا سب سے بڑا ذریعہ بن چُکے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان میں ہونے والے إِن حادثوں سے یہ بات واضح ہے کہ اگر اِن فیکٹریوں میں حفاظت کے بنیادی معیاروں پر عمل درآمد کیا گیا ہوتا تو شائد کوئی جانی نُقصان نہ ہوتا۔ دونوں فیکٹریوں کے مالکان نے چوری چکاری سے بچنے کے لئے کھڑکیوں میں لوہے کی سلاخیں لگا رکھی تھیں اور اُن میں آگ لگ جانے کی صورت میں وہاں سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں بنایا گیا تھا۔ چنانچہ، مزدوروں کے لئے شُعلوں اور دُھوئیں سے بچنے کا کوئی راستہ نہ تھا۔

ایک عالمی تنظیم کے اندازے کے مطابق بنگلہ دیش میں حالیہ حادثے کے علاوہ 2001ء کے بعد سے 500سے زیادہ مزدور آگ کی وارداتوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ بنگلہ دیش میں سلے سلائے کپڑے بنانے کے کارخانوں میں تیس لاکھ مزدور کام کرتے ہیں، اور چین کے بعد بنگلہ دیش ایسے کپڑے بر آمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

قیمتی انسانی جانوں کا یہ ضیاع اِس اعتبار سے اور بھی ہیبت ناک ہے کہ بیشتر حفاظتی خلاف ورزیاں اُتنی ہی واضح ہیں جتنی کہ اُن کو دور کرنے کی ضرورت اور عالمی برینڈ اور جی اے پی اور وال مارٹ جیسے خردہ فروش پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ملکوں میں کارخانوں کا حالات بہتر بنانے کا خرچ اُٹھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ خود ان ملکوں کی حکومتوں پر لازم ہے کہ وُہ حفاظت کے بہتر معیاروں پر عمل درآمد کرائیں۔

’نیوز میکس‘ کے مطابق، صدر براک اوبامہ کی مقبولیت رواں سال کے انتخابات کے بعد سب سے اونچی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس اور جی ایف کے، کے ایک مشترکہ استصواب کے مطابق ایک کانٹے کا انتخاب لڑنے کے بعد اُن کی مقبولیت کی شرح 57 فی صد ہے۔یہ 2011 ءکے بعد اوسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اور اب زیادہ امریکیوں کا ماننا ہے کہ قوم صحیح سمت جارہی ہے اور مقبولیت کی موجودہ شرح ایبٹ آباد میں بن لادن کی نیوی سٕیلز کے ہاتھوں ہلاکت کے وقت کے مقابلے میں پانچ فی صد زیادہ ہے۔
XS
SM
MD
LG