رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: شام کے خلاف کارروائی، ابہام کا عنصر


اس ہفتے فرانسیسی صدر نے کہا تھا کہ شہریوں کے قتل عام کے جواب میں کاروائی کرنے سے پہلو تہی نہیں کی جائےگی۔ لیکن، اب اُن کا رویّہ محتاط ہو گیا ہے ، اوراُن کا نیا موقّف یہ ہے کہ ایک سیاسی حل کے لئے ہر قدم اُٹھانا چاہئیے۔

’شکاگو ٹربیون‘ ایک اداریئے میں کہتا ہے کہ صدر اوبامہ کےطرزِ عمل سے لگ رہا ہے کہ اُنہوں نے شام کے خلاف فوجی کاروائی کرنے کا فیصلہ کر لیاہےاور انہیں امریکی اتّحادیوں سے یہ توقّع ہے کہ وہ ان کا ساتھ دیں گے۔ لیکن، اِس سلسلے میں دئے گئے پیغامات میں جو ابہام رہا ہے، اُس کے پیش نظر یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ پچھلے دو روز کے دوران ہی کلیدی اتّحادی مُلک اور امریکی کانگریس میں دونوں پارٹیوں کے بہت سے ارکان نے صدر سے کہہ دیا ہے کہ اتنی جلدی نہ کی جائے۔

اس ہفتے فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے کہا تھا کہ شہریوں کے قتل عام کے جواب میں کاروائی کرنے سے پہلو تہی نہیں کی جائےگی۔ لیکن، اب اُن کا رویّہ محتاط ہو گیا ہے اور اُن کا نیا موقّف یہ ہے کہ ایک سیاسی حل کے لئے ہر قدم اُٹھانا چاہئیے۔

اسی طرح برطانوی وزیر ِاعظم کا اس ہفتے کے اوائل میں یہ کہنا تھا کہ شام کے بُحران پر دنیا کو ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھنا چاہئیے۔ لیکن، برطانوی پارلیمنٹ میں جمعرات کے روز شام میں برطانیہ کی طرف سے کوئی فوجی کاروائی کرنے کے خلاف ووٹ دیا گیا۔

اخبار کا سوال ہے کہ روائتی اتّحادیوں کی اس ہچکچاہٹ اور کانگریس کی طرف سے اٹھائے جانے والے سوالات کے پیش نظر مسٹر اوبامہ کے پاس کیا چارہ رہتا ہے؟

اخبار کہتا ہے کہ وقت آ گیا ہے جب کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں دستیاب بہترین انٹیلی جنس کو منظر ِعام پر لانا چاہئے اور دوسری حکومتوں اور امریکی شہریوں کی یاد دہانی کرانی چاہئے کہ اگر کوئی قدم نہ اُٹھایا گیا اورآپ نے کُچھ نہ کیا تو اس کا مطلب ہو گا اس سے بھی بڑے مظالم کو دعوت دینا۔

چنانچہ، اگر کوئی حملہ کرنا ہے تو یہ ایسے اتّحاد کے ہاتھوں ممکن نہیں ہوگا جس میں ایک ہی رکن آواز بلند کر رہا ہو۔

’واشنگٹن پوسٹ ‘ میں تجزیہ کار الیکس سیٹز ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ ایسے میں جب ایک طرف وہائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرے ہو رہے ہیں اور امریکی انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تباہی لانے والے ہتھیاروں کی کھوج لگانے والے اقوام متحدہ کےا نسپکٹروں سے نالاں ہے۔ واشنگٹن کا ماحول سنہ 2003 کی مانند دکھائی دے رہاے ۔ اور عراق کی جنگ کا سایہ شام میں امکانی جنگ پر پڑ رہا ہے۔ کیونکہ، خود صدر اوبامہ کو تسلیم کرنا پڑا ہے کہ، ’ہم ایک طویل جنگ میں نہیں اُلجھ رہے۔ عراق کے حالات نہیں دُہرائے جا رہے ہیں۔ جس پر مجھے معلوم ہے بہت سے لوگوں کو پریشانی ہے۔ لیکن، جیسا کہ تجزیہ کار نے کہا ہے بُش دور کی غلطیوں کو دُہرانے کے اِن خدشات کے باوجود ملک کو شام میں جنگ کی طرف لے جا رہے ہیں۔ جب کہ بلا شُبہ ان کی پوزیشن دس سال قبل عراق میں بش کی کاروائی کے مقابلے میں کمزور ہے۔‘

’این بی سی‘ اور’ وال سٹریٹ جرنل‘ کی طرف سےجمعے کے روز رائے عامّہ کا جائزہ لیا گیا جس سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ پچاس فی صد امریکی شام میں فوجی مداخلت کرنے کے خلاف ہیں۔ اور صرف 42 فی صد اسکی حمایت کرتے ہیں۔

اگرچہ انتظامیہ کے عہدہ داروں کو اصرار ہے کہ مسٹر اوبامہ نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن تجزیہ کار کے بقول آثار بتا رہے ہیں کہ فوجی کاروائی اقوام متحدہ کے ان تفتیش کاروں کی شام سے واپسی کے فوراً بعد شروع ہوگی، جن کے ذمے 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں سے کئے جانے والےحملے کی تحقیقات کرنا تھا۔ یہ لوگ ہفتے کو دمشق سے روانہ ہونے والے ہیں۔

آگے چل کر اس کا کہنا ہے کہ امریکی کاروائی کسی اتحادی کی حمائت یا کوئی قتل عام کو روکنے کے لئے نہیں کی جا رہی۔ بلکہ اس بین الاقوامی سمجھوتے کے احترام میں، جس کی رُو سے سویلین آبادی کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ممنوع ہے۔ شام نے اس سمجھوتے پر دستخط نہیں کئے ہیں۔ غالباً اس نے صحیح اندازہ لگایا تھا کہ کسی روز اُسے یہ ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حملے کی وجہ سے عوام خوف اور تشویش کا شکار ہیں۔ شام کے دارالحکومت دمشق میں شہری خوراک اور پانی ذخیرہ کر رہے ہیں۔ حکومت مرکزی سڑکوں کو بند کر رہی ہے اور فوجوں اور سازو سامان کو رہائشی علاقوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

اخبار کے بقول صدر اسد کے خلاف بغاوت کی حمائت کرنے والوں کے درمیان آنے والے حملے کے بارے میں اختلافِ رائے ہے۔
XS
SM
MD
LG