رسائی کے لنکس

سان برنارڈینو حملہ آور کی لائف انشورنس ضبط کی جائے: استغاثہ


سان برنارڈینو میں دہشت گرد حملے کے متاثرین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پھول رکھے گئے ہیں۔ فائل فوٹو

سان برنارڈینو میں دہشت گرد حملے کے متاثرین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پھول رکھے گئے ہیں۔ فائل فوٹو

امریکہ کے قانون کے مطابق اگر رقم کو دہشت گردی سے حاصل کیا جائے، یا کسی طرح اس سے منسلک ہو یا اسے دہشت گردی میں استعمال کیا جائے تو اسے ضبط کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ کے وکلائے استغاثہ کوشش کر رہے ہیں کہ گزشتہ سال کیلیفورنیا میں سان برنارڈینو کے ایک مشتبہ حملہ آور کی لاکھوں ڈالر مالیت کی لائف انشورنس پالیسیوں سے حملے کے متاثرین کو فائدہ پہنچایا جائے۔

منگل کو لاس اینجلس کی ایک وفاقی عدالت میں دائر کیے جانے والے مقدمے میں استغاثہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ سید رضوان فاروق کی موت کے بعد اس کی انشورنس پالیسیوں سے حاصل ہونے والی رقم حکومت کو ضبط کر لینی چاہیئے کیونکہ وہ ’’دہشت گردی کے وفاقی جرم سے خریدی گئی تھیں۔‘‘

امریکہ کے قانون کے مطابق اگر رقم کو دہشت گردی سے حاصل کیا جائے، یا کسی طرح اس سے منسلک ہو یا اسے دہشت گردی میں استعمال کیا جائے تو اسے ضبط کیا جا سکتا ہے۔

امریکی اٹارنی آئیلین ڈیکر نے ایک بیان میں کہا کہ ’’دہشت گردوں کو اپنے جرائم کے ذریعے اپنے نامزد افراد کو فائدہ پہنچانے کی اجازت نہیں دینی چاہیئے۔‘‘

رضوان فاروق اور اس کی اہلیہ تاشفین ملک نے دسمبر میں ایک مقامی سرکاری دفتر کی تقریب میں فائرنگ کر کے 14 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا جبکہ 21 دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

وہ جائے وقوع سے ایک کار پر فرار ہو گئے اور بعد میں قریب ہی ایک علاقے میں پولیس سے جھڑپ میں مارے گئے۔

مقدمے میں سید رضوان فاروق کی دو لائف انشورنس پالیسیوں کی شناخت کی گئی ہے۔ اس کی سرکاری ملازمت سے منسلک ایک پالیسی کی مالیت 25 ہزار ڈالر ہے۔ دوسری پالیسی اس نے خود خریدی تھی اور اس کی مالیت ڈھائی لاکھ ڈالر ہے۔

دونوں پالیسیوں میں اس کی والدہ رافعہ کو اس کی موت کی صورت میں رقم حاصل کرنے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

آئیلین ڈیکر نے کہا کہ ’’میرا دفتر اس رقم کو اس خوفناک جرم کے متاثرین کو فراہم کرنے کے لیے ہر دستیاب قانونی طریقہ تلاش کرنے کی کوشش کرے گا۔‘‘

استغاثہ کا کہنا ہے کہ رضوان فاروق نے 2012 اور 2013 میں دو پالیسیاں خریدی تھیں اور اس وقت وہ پہلے ہی اپنے ساتھی اینریک مارخیز جونیئر کے ساتھ مل کر دہشت گرد حملے کی تیاری کر رہا تھا۔

مارخیز پر سان برنارڈینو حملے سے متعلق متعدد جرائم میں فرد جرم عائد کی گئی ہے جس میں اس حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی خریداری بھی شامل ہے۔

اس نے جنوری میں ان تمام الزامات کی صحت سے انکار کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG