رسائی کے لنکس

نیو یارک میں پولیس کے خلاف مظاہرے جاری


فائل فوٹو

فائل فوٹو

28 سالہ آکائی گرلے کو 20 نومبر کو ایک رہائشی علاقے کی سیڑھیوں پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا ۔ اس کے عزیز و اقارب اور دوستوں نے نیو یارک کے بروکلین کے علاقے میں ہونے والی آخری رسومات میں اسے خراج عقیدت پیش کیا۔

نیو یارک میں گزشتہ ہفتے پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ایک غیر مسلح سیاہ فام نوجوان کی تدفین کے بعد اقلیتوں مخالف مبینہ پولیس تشدد کے خلاف چوتھی رات بھی مظاہر ے جاری رہے۔

28 سالہ آکائی گرلے کو 20 نومبر کو ایک رہائشی علاقے کی سیڑھیوں پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کے عزیز و اقارب اور دوستوں نے نیو یارک کے بروکلین کے علاقے میں ہونے والی آخری رسومات میں اسے خراج عقیدت پیش کیا۔

پولیس میں نئے بھرتی ہونے والے ایک اہلکار پیٹر لینگ نے گرلے کو بروک لین کی ایک رہاشی عمارت کی سیڑھیوں پر گولی ماری تھی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ گرلے ایک مشتبہ ملزم نہیں تھا اور وہ پولیس اہلکار سے حادثاتی طور پر گولی چلنے کی وجہ سے ہلاک ہو گیا۔ تاہم نیو یارک کے ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق لینگ نے فوری طور پر ایمبولینس کو بلانے سے پہلے کچھ دیر انتطار کیا۔

بروکلین کے ڈسٹرکٹ اٹارنی کا کہنا ہے کہ ایک گرینڈ جیوری لینگ کے خلاف الزامات کا جائزہ لے گی۔

مظاہرین نے دسمبر کی سرد رات اور بارش کی پرواہ کیے بغیر گرلے کی موت اور گرینڈ جیوری کی طرف سے دو دوسرے افریقی امریکی شہریوں کو ہلاک کرنے والے دو دیگر سفیدفام پولیس ایلکاروں کے خلاف فرد جرم عائد نہ کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔

ہفتے کے روز ہونے والے مظاہرے جمرات اور جمعہ کے مظاہروں کی نسبت زیادہ محتاط مظاہرے تھے۔

ایک درجن کے قریب مظاہرین نیو یارک کے گرینڈ سنٹرل ٹرمینل پر لیٹ گئے جو اب مظاہروں کے دوران ایک جانی پہچانی جگہ ہے جہاں لوگ ایسے لیٹ جاتے ہیں جیسے وہ "مردہ حالت" میں ہیں۔ پولیس اور مظاہرین کی طرف سے محتاط رویے کا مظاہرہ کیا گیا جس کی وجہ سے تشدد کا کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا۔

واشنگٹن میں مظاہرین نے شہر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران تھوڑی دیر کے لیے چوراہوں کو بند کیا۔ مظاہرین نے ڈیٹرائٹ، لاس اینجلس، ہیوسٹن اور سیاٹل میں بھی مظاہرے کیے۔

یہ مظاہرے بدھ سے مسلسل ہو رہے ہیں جب نیو یارک کی ایک گرینڈ جیوری نے ایک سفید فام پولیس اہلکار ڈینئل پر فرد جرم عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا جس پر ایک غیر مسلح مشتبہ ملزم ایرک گارنرکو گلا دبا کر ہلاک کرنے کا الزام تھا۔

گارنر کے مقدمے پر عوامی احتجاج، کئی امریکیوں کی طرف سے گزشتہ ماہ فرگوسن کی ایک گرینڈ جیوری کی طرف سے ایک سفید فام پولیس اہلکار ڈیرن ولسن پر فرد جرم عائد نہ کرنے کے فیصلے کے بعد ہونے والے احتجاج کے بعد سامنے آیا۔ ڈیرن پر ایک غیر مسلح سیاہ فام لڑکے مائیکل براؤن کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔

صدر اوباما نے پولیس اور اقلیتوں کے درمیان " بڑھتی ہوئی بد اعتمادی" کو کم کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف براؤن اور گارنر کی ہلاکت کے واقعے کی شہری حقوق کے تحت تحقیق بھی کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ماہرین نے بھی گارنر اور براؤن کے واقعات کے تناظر میں امریکہ میں پولیس کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG