رسائی کے لنکس

العولقی کو رقوم کی فراہمی، چار امریکیوں پر فردِ جرم عائد


انوار الاولاکی (فائل)

انوار الاولاکی (فائل)

معاون اٹارنی جنرل، جان کارلن کے الفاظ میں، ’چاروں پر الزام ہے کہ اُنھوں نے انوار الاولاکی کو مادی حمایت فراہم کرنے کی کوشش کی، جنھوں نے پُرتشدد جہاد کے حمایت کی اپیل کر رکھی تھی۔ اِن میں سے دو امریکی شہری ہیں، جب کہ دو کی شادی امریکی خواتین سے ہوئی ہوئی ہے‘

امریکہ میں چار مشتبہ افراد پر فردِ جرم عائد کیا گیا ہے، جِن پر الزام ہے کہ اُنھوں نے یمن کا سفر کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی جس کا مقصد امریکہ میں پیدا ہونے والے القاعدہ کے رہنما، انوار الاولاکی کو مالی امداد فراہم کرنا تھا، تاکہ عراق، افغانستان اور دنیا بھر میں امریکی فوجی اہل کاروں کے خلاف اُن کے پُرتشدد جہاد کی حمایت کی جاسکے۔

چار صفحات پر محیط اس فردِ جرم کی دستاویز کو، جسے جمعرات کے روز اوہائیو میں پیش کیا گیا، امریکہ نے یحیٰ فاروق محمد، ابراہیم زبیر محمد، آصف احمد سلیم اور سلطان روم سلیم پر الزام ہے کہ اُنھوں نے دہشت گردوں کو مادی حمایت فراہم کرنے اور انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے کی سازش کی۔

فاروق محمد اور ابراہیم محمد پر بینک فراڈ کی سازش کے دو اضافی الزامات بھی عائد ہیں۔

معاون اٹارنی جنرل، جان کارلن کے الفاظ میں، چاروں پر الزام ہے کہ اُنھوں نے انوار الاولاکی کو مادی حمایت فراہم کرنے کی کوشش کی، جنھوں نے پُرتشدد جہاد کے حمایت کی اپیل کر رکھی تھی۔

اِن میں سے دو امریکی شہری ہیں، جب کہ دو کی شادی امریکی خواتین سے ہوئی ہوئی ہے۔

فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2005ء سے جنوری 2012ء تک ملزمان نے انوار الاولاکی کو رقوم، ہتھیار اور دیگر اعانت فراہم کرنے کی سازش رچائی۔ الاولاکی جزیرہ نما عربستان میں القاعدہ کے ایک کلیدی رہنما تھے، جنھیں سنہ 2010میں عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا؛ اور اُنھیں سنہ 2011 میں یمن میں ہونے والے ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

امریکی اٹارنی، اسٹیون ڈیٹلباک کے بقول، ’اس مقدمے میں اِس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایک بدنام دہشت گرد کو ہزاروں ڈالر فراہم کرنے کی سازش کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں تاریخ کے بدترین حملے ممکن تھے، کیونکہ یہ دہشت گرد حملوں کا شہرہ رکھتا تھا‘۔

فرد جرم میں بتایا گیا ہے کہ فاروق محمد اور ابراہیم محمد نے کریڈت کارڈز سے پیسے حاصل کیے، اور بینک سے رقوم نکلوائیں؛ اور یہ کہ متعدد مالی اداروں سے ادھار لی گئی اُن رقوم کو واپس کرنے کا اُن کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

عائد الزامات میں مزید بتایا گیا ہے کہ 22 جولائی، 2009ء کو الاولاکی سے ملاقات کے لیے، دو دیگر افراد کے ہمراہ، فاروق محمد نے یمن کا سفر کیا۔ وہ اُن سے ملاقات میں کامیاب نہیں ہوئے، اس لیے اُن کے دوستوں سے ملنے کے لیے وہ یمنی شہر، صنعا گئے۔

فاروق محمد اور اُن کے دو ساتھیوں نے اُس رفیق کو الاولاکی تک پہنچانے کے لیے تقریباً 22000 ڈالر کی رقم حوالے کی۔

ڈیٹلباک کے بقول، ’فردِ جرم ہمارے ملک میں موجود عناصر کی لگن کی داستان کو بیان کرتا ہے، جو دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔ اُن کے لیے ہمارا یہ واضح پیغام ہے کہ ہم تمہیں نہیں بھولیں گے، اور تمہیں انصاف کے کٹہرے میں لاکھڑا کر کے رہیں گے۔‘

XS
SM
MD
LG