رسائی کے لنکس

امریکہ کی روس کے ساتھ مشترکہ ورکنگ گروپ سےعلیحدگی


ترجمان، وکٹوریا نُلینڈ

ترجمان، وکٹوریا نُلینڈ

محکمہٴخارجہ کی خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کئی معاملات پر روس کے ساتھ کام کرتا رہے گا، جِن میں انسانی حقوق کا معاملہ بھی شامل ہے، لیکن جب کبھی نااتفاقی کی کوئی صورت پیدا ہوتی ہے، تو وہ برملا طور پر اِس کا اظہار کرے گا

انسانی حقوق اور آزادیوں سے متعلق تناؤ کے پیش ِنظر، امریکہ نے روس کے ساتھ اُس مشترکہ ورکنگ گروپ سے اپنا نام واپس لے لیا ہے، جِس کا کام سول سوسائٹی کی تنظیموں کی حمایت کرنا ہے۔

امریکی محکمہٴخارجہ کی خاتون ترجمان وکٹوریا نُلینڈ نے جمعے کے دِن کہا کہ یہ فیصلہ سول سوسائٹی کےخلاف حکومتِ روس کی طرف سے حالیہ پابندیوں کو مدِ نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ ورکنگ گروپ اب مؤثر نہیں رہا۔

نُلینڈ نے کہا کہ امریکہ کئی ایک معاملات پر روس کے ساتھ کام کرتا رہے گا، جِس میں انسانی حقوق کا معاملہ بھی شامل ہے، لیکن جب کبھی نااتفاقی کی کوئی صورت پیدا ہوتی ہے، تو وہ برملا طور پر اِس کا اظہار کرے گا۔

حالیہ مہینوں کے دوران روس نے اُن متعددتنظیموں اور روس کی غیر سرکاری تنظیموں کو ہدف بنایا ہے جو امریکی امداد سے استفادہ کررہی تھیں۔ روس نےاکتوبر میں بین الاقوامی امداد سے متعلق امریکی ادارے (یو ایس ایڈ) کو ملک سے نکالتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وہ روس کے سیاسی امور میں مداخلت کر رہا ہے، جِس الزام کو امریکہ نے سختی سے مسترد کیا ہے۔

سول سوسائٹی سے متعلق یہ ورکنگ گروپ 2009ء میں تشکیل دیا گیا تھا، جس کے ساتھ ہی دیگر ورکنگ گروپ قائم کیے گئے تھے جِن پر امریکی صدر براک اوباما اور روسی صدر دمتری مدویدیف نے اتفاق کیا تھا۔ تاہم، جب گذشتہ برس ولادیمیر پیوٹن نے دوبارہ صدر کا عہدہ سنبھالا ہے، امریکہ اور روس کے تعلقات میں ابتری آچکی ہے۔
XS
SM
MD
LG