رسائی کے لنکس

پاکستان جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے: امریکی رپورٹ

  • عشرت سلیم

امریکی محکمہ خارجہ

امریکی محکمہ خارجہ

ڈاکٹر اے ایچ نیئر نے کہا کہ اگرچہ اس رپورٹ میں جوہری ایکسپورٹ کنٹرول کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کیا گیا ہے مگر فی الوقت اس بات کا امکان انتہائی کم ہے کہ پاکستان کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا حصہ بنایا جائے گا۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کی طرف سے کانگریس کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور انہیں لے جانے والے میزائل نظاموں کے کنٹرول کے طریقہ کار کو نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کے معیارات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے گانگریس کو بھیجی گئی ’’کنٹری رپورٹس آن ٹیررزم 2015‘‘ میں پاکستان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر پاکستان ایک پرعزم شراکت دار ہے اور اس نے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنی صلاحیت میں اضافے کی بھرپور کوششیں کی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان نے جوہری سلامتی کانفرنس اور ’’گلوبل انیشیئٹیو ٹو کمبیٹ نیوکلیئر ٹررزم‘‘ یعنی جوہری دہشت گردی کے خلاف عالمی کاوش میں تعمیری اور فعال کردار ادا کیا ہے۔

امریکہ اور دیگر ممالک کی طرف سے کئی مرتبہ اس خدشے کا اظہار کیا جا چکا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جو دنیا کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہو گا۔

اس سلسلے میں پاکستان سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا کہ اس نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

پاکستان بھی مختلف مواقع پر اپنے جوہری پروگرام کی سکیورٹی کے لیے کیے گئے ان اقدامات کا تذکرہ کرتا رہتا ہے کیونکہ اس کی خواہش ہے کہ اسے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کا حصہ بنایا جائے جس سے اسے جدید جوہری ٹیکنالوجی اور جوہری مواد تک رسائی ہو سکے گی۔

تاہم جوہری طبعیات کے ماہر اور امن کے سرگرم کارکن ڈاکٹر اے ایچ نیئر نے کہا کہ اگرچہ اس رپورٹ میں جوہری ایکسپورٹ کنٹرول کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کیا گیا ہے مگر فی الوقت اس بات کا امکان انتہائی کم ہے کہ پاکستان کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا حصہ بنایا جائے گا کیونکہ امریکہ پہلے ہی اس بات کا اظہار واضح الفاظ میں کر چکا۔

’’امریکہ نے یہ کہا تھا کہ پاکستان بہت تیزی کے ساتھ ہتھیار بناتا چلا جا رہا۔ اس نے چھوٹے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے جوہری ہتھیار بنائے ہیں اور ایسے میزائل بنائے ہیں جن کی وجہ سے جنگ کے خدشات بہت بڑھ سکتے ہیں۔ اور ان ہتھیاروں کی تعیناتی کے بعد ان کے غلط ہاتھوں میں پڑنے کے امکانات بہت ہو سکتے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر اے ایچ نیئر کے مطابق امریکہ نے مزید کہا تھا کہ ’’پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق دیگر انٹرنیشل ریجیمز مثلاً فزائل مٹیرئیل کٹ آف ٹریٹی وغیرہ، ان پر آگے کوئی پیش رفت نہیں کر رہا۔‘‘

بھارت نے بھی نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کا حصہ بننے کے لیے درخواست دے رکھی ہے اور امریکی انتظامیہ اور کانگریس بھارت کو اس گروپ کا حصہ بنانے کے حق میں ہیں۔

تاہم چین نے بھارت کی رکنیت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں ہی نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے اور اگر بھارت کو نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کا حصہ بنانے کے لیے استثنیٰ دیا جائے گا تو پاکستان بھی اس کا حقدار ہو گا۔

بھارت کی درخواست پر نو جون کو غور کیا جائے گا مگر مبصرین کے بقول اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ چین کے اعتراض کے باعث اس پر رائے منقسم ہو گی اور اتفاق رائے پیدا نہیں کیا جا سکے گا۔

XS
SM
MD
LG