رسائی کے لنکس

شام میں نقل مکانی کرنے والوں پر حملہ 'وحشت ناک' ہے: امریکہ


ساکی نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ شام کو لڑائی کے دوران عام شہریوں کے خلاف ہونے والے اقدامات کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

امریکہ نے شام میں گزشتہ ساڑھے تین سال کی خانہ جنگی سے بے گھر ہونے والوں کے کیمپ پر اطلاعات کے مطابق شامی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بیرل بم گرائے جانے کو "وحشت ناک" قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

برطانیہ میں قائم ’سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ نے کہا ہے کہ بدھ کو ادلیب میں کیے گئے حملے میں کم ازکم 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ امریکہ فوری طور پر اس (حملے) کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کر سکتا تاہم انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ اطلاعات "خوفناک" ہیں۔ ان کے بقول امریکہ تواتر کے ساتھ شامی حکومت کے'' انسانی حقوق سے متعلق سنگ دلانہ رویہ " کے خلاف آواز اٹھاتا رہا ہے۔

ساکی نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ شام کو لڑائی کے دوران عام شہریوں کے خلاف ہونے والے اقدامات کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ شام میں 2011ء میں پرامن طور پر شروع ہونے والے حکومت مخالف احتجاج بعد میں خانہ جنگی میں تبدیل ہو گیا جس میں اب تک تقریباً 200,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس لڑائی کی وجہ سے 30 لاکھ افراد نقل مکانی کر کے ہمسایہ ممالک میں پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ تقریباً 65 لاکھ کو شام کے اندر ہی نقل مکانی کرنا پڑی۔

اقوام متحدہ وقتاً فوقتاً شام میں جنگ کے دوران انسانی حقوق کی صورت حال پر رپورٹ جاری کرتا رہا ہے جس میں سرکاری فوجوں کو عام شہریوں پر بڑے حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG