رسائی کے لنکس

پاکستان اور بھارت کا مستقبل باہمی تعلقات پر منحصر ہے، امریکی ایلچی


فائل

فائل

بھارت کی ترقی اور دنیا میں قیادت کامنصب سنبھالنے کا خواب اس وقت تک مکمل حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا جب تک وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر نہیں بناتا: امریکی نمائندہ خصوصی

پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندہ ڈین فیلڈ مین نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے بہتر مستقبل کا انحصار دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں بہتری پر ہے۔

منگل کو واشنگٹن کے تھنک ٹینک 'اٹلانٹک کونسل' کے تحت ہونے والی "پاک – امریکہ کانفرنس" سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہ بھارت کی ترقی اور دنیا میں قیادت کامنصب سنبھالنے کا خواب اس وقت تک مکمل حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا جب تک وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر نہیں بناتا۔

امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے بھی بھارت کے ساتھ تعلقات کو خوشگوار بنانا انتہائی ضروری ہے۔

جناب فیلڈ مین نے کہا کہ امریکہ کو دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی اور جھڑپوں پر سخت تشویش ہے اور انہوں نے بذاتِ خود دونوں ملکوں کی قیادت سے رابطہ کرکے زور دیا ہے کہ وہ حالیہ کشیدگی میں کمی کے لیے براہِ راست بات چیت کریں۔

اپنے خطاب میں ڈین فیلڈ مین کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں جاری جنگ نے امریکہ کے جس ملک کے ساتھ تعلقات پر سب سے زیادہ اثر ڈالا وہ پاکستان ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی وجہ سے خطے پر مرکوز ہونے والی سیاسی توجہ اور وسائل سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور اسے امریکہ سے اب تک 'کولیشن سپورٹ فنڈ' کی مد میں 13 ارب ڈالر جب کہ سویلین امداد کے طور پر آٹھ ارب ڈالر مل چکے ہیں۔

ڈین فیلڈ مین کا کہنا تھا کہ افغان جنگ کا سب سے زیادہ خمیازہ بھی پاکستان کو بھگتنا پڑا ہے لیکن پاکستان اب اس جنگ کے اثرات سے باہر آرہا ہے اور اس کی معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں لیکن ان علاقوں کو شدت پسندوں کا دوبارہ گڑھ بننے سے روکنے کے لیے پاکستان کی حکومت اور فوج کو مستقبل میں بھی باہمی تعاون جاری رکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ فوج صرف ایک علاقے کو شدت پسندوں سے پاک کرنے کا کام کرسکتی ہے جس کے بعد وہاں قانون کی عمل داری، سرکار کی رِٹ کی بحالی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اپنے خطاب میں ڈین فیلڈ مین نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کا انحصار پاکستان کی جانب سے اپنی حدود میں موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے پر ہے جو پاکستان کے ساتھ ساتھ اس کے پڑوسی ملکوں اور امریکہ کے لیے بھی ایک خطرہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG