رسائی کے لنکس

سوزن رائس کی استعداد کار کا تجزیہ

  • آندرے نیسنیرا

سوزن رائس

سوزن رائس

کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی اگلی وزیرِ خارجہ بننے کے لیے سوزن رائس میں تمام ضروری خصوصیات موجود ہیں۔ وہ رہوڈز اسکالر ہیں، ان کا تعلیمی ریکارڈ شاندار ہے، انھوں نے کیلی فورنیا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور انگلینڈ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈگریاں حاصل کی ہیں۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا، تو اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر، سوز ن رائس، ان کی جگہ لینے کے لیے بہت موزوں ہوں گی۔

کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی اگلی وزیرِ خارجہ بننے کے لیے سوزن رائس میں تمام ضروری خصوصیات موجود ہیں۔ وہ رہوڈز اسکالر ہیں، ان کا تعلیمی ریکارڈ شاندار ہے، انھوں نے کیلی فورنیا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور انگلینڈ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈگریاں حاصل کی ہیں۔

انھوں نے کلنٹن انتظامیہ کے دور میں، 1993 میں سرکاری ملازمت شروع کی ۔ وہ نیشنل سیکورٹی کونسل میں قیامِ امن کی سرگرمیوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی انچارج تھیں ۔ 1997 میں وہ امریکی محکمۂ خارجہ میں افریقی امور کی اسسٹنٹ سکریٹری بن گئیں۔

وہ شروع ہی سے براک اوباما کی حامی تھیں۔ صدارت کی پہلی مہم کے دوران وہ خارجہ پالیسی میں ان کے مشیروں میں شامل تھیں۔ بعد میں اوباما نے انہیں اقوامِ متحدہ میں امریکہ کا سفیر نامزد کر دیا۔ وہ اس عہدے پر 2009 سے اب تک کام کرتی رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سابق متبادل نمائندہ نینسی سوڈربرگ، سوزن رائس کو اچھی طرح جانتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں’’وہ بڑی پُر جوش اور مضبوط اعصاب کی مالک ہیں اور امریکی مفادت کو فروغ دینے کی ماہر ہیں۔ لیکن وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ دوسروں کی بات کیسے سنی جائے اور کسی سودے کو آخری شکل کیسے دی جائے۔ لہٰذا میں سمجھتی ہوں کہ وہ اتنی ہی غیر معمولی طور پر موئثر وزیرِ خارجہ ہوں گی جتنی اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر رہی ہیں ۔‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ میں انھوں نے کئی شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان میں ایران پر پابندیاں سخت کرنے کی قرارداد کی منظوری اور لیبیا میں فوجی کارروائی کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور ی حاصل کرنا شامل ہے۔

لیکن امریکن یونیورسٹی کے ڈیوڈ بوسکو کہتے ہیں کہ اگرچہ رائس ایک مؤثر سفیر رہی ہیں، لیکن بعض ایسے مقاصد ہیں جو امریکہ حاصل نہیں کر سکا۔’’امریکہ چاہتا تھا کہ شام کی حکومت پر سخت دباؤ پڑے اور وہ ماسکو یا بیجنگ کو اس پر رضامند نہیں کر سکا اور اس قرارد اد کو ویٹو کر دیا گیا ۔ میرے خیال میں امریکہ چاہتا تھا کہ ایران کے خلاف اور بھی زیادہ سخت اقدام کیا جاتا اور یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔‘‘

بوسکو اس طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ کلنٹن انتظامیہ کے دور میں، جب وہ قیامِ امن کے مسائل پر کام کر رہی تھیں، ان کے ریکارڈ پر کچھ ایسی باتیں ہیں جن سے ان کی شہرت داغدار ہوتی ہے۔

’’یہ بڑا متنازع وقت تھا جب اقوامِ متحدہ کی قیامِ امن کی کوششیں اور ان کے لیے امریکہ کی حمایت بری طرح ناکام ہو گئی تھی ۔ یہ 1995 میں بوسنیا کے واقعات اور 1994 میں روانڈا کے واقعات کا زمانہ تھا۔‘‘

تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ 1998 میں جب دہشت گردوں نے کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بموں سے حملہ کیا، تو رائس افریقہ کے امور کی سینیئر سفارتکار تھیں ۔ ان واقعات کے بعد ہی ساری دنیا میں امریکی سفارت خانوں کے لیے سیکورٹی کے انتظامات کا از سرِ نو جائزہ لیا گیا۔

رائس آج کل ان بیانات کے سلسلے میں ایک تنازعے میں الجھ گئی ہیں جو انھوں نے امریکی ٹیلیویژن پر بن غازی ، لیبیا میں امریکی کونسلیٹ پر گیارہ ستمبر کے حملے کے کئی روز بعد دیا تھا۔ اس حملے میں امریکی سفیر چارلس اسٹیونز اور تین دوسرے امریکی ہلاک ہو گئے تھے ۔
بعض ریپبلیکن سینیٹرز نے کہا ہے کہ رائس نے اس حملے کے بارے میں امریکی عوام کو گمراہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ تشدد اچانک اشتعال پھیلنے کی وجہ سے ہوا۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ دہشت گردوں کا حملہ تھا جس کی اچھی طرح منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ رائس نے کہا کہ ان کے بیانات کی بنیاد انٹیلی جینس کی وہ معلومات تھیں جو اس وقت دستیاب تھیں اور وہ کسی بھی طرح امریکی عوام کو گمراہ کرنا نہیں چاہتی تھیں۔

لیکن کئی ریپبلیکن قانون سازوں نے جو ان کے بیان کے بعد رائس سے ملے، کہا ہے کہ اگر وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے ان کی نامزدگی کا معاملہ سینیٹ میں پیش ہوا، تو وہ اسے بلاک کر دیں گے۔

نینسی سوڈربرگ کہتی ہیں کہ یہ سب ریپبلیکنز کے جانبداری کے سیاسی کھیل ہیں ۔’’صدر کے مخالفین ایک ایسے معاملے میں رائس پر وار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں ان کا کوئی رول نہیں تھا ۔ وہ صدر کی بن غازی پالیسی کی مخالفت کر سکتے ہیں، لیکن انہیں اس کے لیے کسی ایسے فرد کو نشانہ نہیں بنانا چاہیئے جو ہر طرح اس عہدے کا اہل ہے۔‘‘

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر جان بولٹن کہتےہیں کہ بن غازی میں کیا ہوا، یہ سوال سوزن رائس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔’’بن غازی کے سلسلے میں جو تنازع چل رہا ہے اس کا اظہار حملوں کے ایک ہفتے کے اندر اتوار کے ٹیلیویژن شوز میں رائس کے بیانات سے ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوباما انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کا یہ تنقیدی جائزہ صدر کی دوسری مدت میں بھی جاری رہے گا۔‘‘

بولٹن اور سوڈربرگ متفق ہیں کہ بالآخر صدر اوباما کو اپنی کابینہ کے لیے وہی لوگ ملنے چاہئیں جو وہ چاہتے ہیں، سوائے ایسی صورت کے کہ یہ لوگ سرا سر نا اہل ہوں یا ان کا طرزِ عمل غیر اخلاقی ہو۔
XS
SM
MD
LG