رسائی کے لنکس

امریکہ میں امیر اور غریب کا فرق بڑھ رہاہے

  • پیٹر فیڈنسکی
  • ندیم یعقوب

امریکہ میں امیر اور غریب کا فرق بڑھ رہاہے

امریکہ میں امیر اور غریب کا فرق بڑھ رہاہے

اس سال امریکہ میٕں ہونے والی مردم شماری کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ دوسرے کئی ملکوں کی طرح یہاں بھی امیر اور غریب افرادکی آمدنیوں میں فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ کئی معاشرتی اور سماجی تنظیموں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ مختلف طبقوں کے درمیان آمدنی کا بڑھتا ہوا فرق امریکی معاشرے کے لیے کئی مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

امریکی مردم شمار ی کے تازہ اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ نصف صدی میں اتنی بڑی تعداد میں امریکی پہلے کبھی اتنے غریب نہیں تھے۔ بیورو کا کہنا ہے کہ حالیہ برسو ں میں امریکہ میں غریبوں اور امیروں کی آمدنی میں فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غریبوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ایک وجہ کساد بازاری ہے۔ایک غیر سرکاری ادارے کے ایک عہدیدار ہنری فریڈ مین کہتے ہیں کہ مڈل کلاس کا ختم ہونا دوسری وجہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پہلے کارخانوں میں روزگار کے مواقع ہوتے تھے ، اب کارخانے نہ ہونے کی وجہ سے وہ نہیں ہیں۔ بہت سے دفتری نوعیت کے کام یا تو سمندر پار کمپنیوں کے حوالے کر دئیے گئے ہیں یا انہیں اب ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا جاتا ہے۔

نیو یارک یونیورسٹی میں اسوسی ایٹ پروفیسر رابرٹ ہاؤکنزکہتے ہیں کہ غریب علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو وہ بنیادی مواقع میسر نہیں جو امیر افراد کو حاصل ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں ایسے لوگ ہیں جنہیں مواقع میسر نہ تھے اور نہ ہیں۔ یہ لوگ تعلیم حاصل نہیں کرسکتے۔ تو اس کے نتیجے میں انہیں ملازمت نہیں ملتی۔

پروفیسر رابرٹ کہتے ہیں کہ غربت میں گھرے لوگ ملازمت کے لیے نہ تو اپنے جیسےغریب پڑوسیوں اور نہ ہی دوستوں پر تکیہ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ مواقع فراہم نہیں کر سکتے۔ اسی وجہ سے جرائم، بچوں کے مسائل ، بیماریاں اور اموا ت عام ہو جاتی ہیں۔ معاشی اور اقتصادی انصاف کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے سے منسلک ہنری فریڈ مین کا کہنا ہے کہ ان مسائل کی وجہ سے معاشرے میں ایسے طبقات جنم لیتے ہیں جن میں برادری کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔

ان کا کہناہے کہ ایسے میں جب ایک طرف تو لوگ بس زندہ رہنے کی تگ ودو کر رہے ہوتے ہیں اور وہ شورش پسندی کا شکار بھی ہوسکتے ہیں، مگر دوسری جانب لوگ اپنے سارے وسائل اس لیے بروئے کار لاتے ہیں کہ وہ ایسے معاشرے سے کہیں دور محفوظ رہیں نہ کہ اس کا حصہ بنیں۔

نیو یارک یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ کہتے ہیں کہ مڈل کلاس میں کمی سے ان خدمات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے جو روایتی طور پر ٕٕدرمیانہ طبقہ سرانجام دیتا ہے اور جس سے امرا بھی فائدہ اٹھاتے ہیں، جیسے بیماروں کی دیکھ بھال ،قانون کی پاسداری یا تعلیم کا شعبہ۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں امرا کا سیاسی اثرورسوخ زیادہ ہے، اس لئے نہیں کہ وہ نظام کو زیادہ بہترسمجھتے ہیں بلکہ اس لئے کہ غریب اس نظام کو اپنے فائدے کے لئے استعمال نہیں کر رہے۔

پروفیسر رابرٹ کہتے ہیں کہ غریبوں کے لئے طویل المدت بنیادوں پر صحت اور تعلیم کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوری طور پر جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ امیر اور غریب دونوں رقم خرچ کریں ۔ کیونکہ پیسے کی گردش سے ملازمتوں میں مواقع پیدا ہونگے۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ مسلہ یہ ہے کہ غریبوں کے پاس خرچ کرنے کئے لئے کچھ ہے ہی نہیں اور امیر معاشی بحران اور کساد بازاری کی وجہ سے ابھی تک خوفزدہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG