رسائی کے لنکس

جوہری ہتھیاروں میں کمی کے معاہدے پر دستخط

  • ب

امریکہ اور روس نے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے معاہدے پر جمعرات کو دستخط کردیے ہیں جس کے تحت دونوں ممالک اپنے جوہری ہتھیاروں میں 30فیصد تک کمی کریں گے۔

جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ میں ہونے والی خصوصی تقریب میں امریکی صدر باراک اوباما اور روسی صدر دمتری میدودیونے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

صدر اوباما نے اس معاہدے کو امریکہ روس تعلقات، جوہری تحفظ اور اس کے عدم پھیلاؤ کے لیے ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تخفیف اسلحہ کا یہ معاہدہ جوہری خطرات سے آزاد دنیا کی طرف ایک عظیم پیش ہے۔ جب کہ ان کے روسی ہم منصب کے مطابق یہ ایک تاریخی واقعہ اور دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں ایک نیا باب ہے۔

امریکہ اور روس کے درمیان تقریباً ایک سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ہونے والا یہ معاہدہ 1991ء میں کیے گئے معاہدے (START)کی جگہ لے گا۔ اس کے تحت دونوں ملک اپنے اپنے سٹریٹیجک جوہری ہتھیاروں کی تعداد 1500تک محدود رکھیں گے۔

امریکی سینٹ اور روس کی پارلیمان کی طرف سے توثیق کے بعد یہ معاہدہ نافذ العمل ہوجائے گا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف پہلے ہی یہ واضح کرچکے ہیں کہ اگر ان کے ملک کو محسوس ہوتا ہے کہ یورپ کے لیے امریکی دفاعی میزائلوں کے نظام سے روس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے تو وہ جوہری اسلحے کی تخفیف کے اس معاہدے سے نکلنے کا اختیار رکھتا ہے۔

صدر اوباما نے اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ خطاب میں میزائلوں کے دفاعی نظام سے متعلق روس کے خدشات پر مزید مذاکرات کرنے کا عزم بھی کیا۔

واضح رہے کہ دنیا میں موجود جوہری ہتھیاروں میں سے مجموعی طورپر 90فیصد روس اور امریکہ کے پاس ہیں۔

XS
SM
MD
LG