رسائی کے لنکس

امریکہ اور روس کے تعلقات میں بہتری

  • آندرے ڈیننسیرا

روسی وزیر اعظم ولادیمر پوٹن

روسی وزیر اعظم ولادیمر پوٹن

20 سال پہلے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے اب تک امریکہ اور روس نے سرد جنگ کی بہت سی دشمنیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ان کے درمیان اختلافات اب بھی باقی ہیں، لیکن اب وہ بہت سے معاملات میں مِل جُل کر کام کرتے ہیں۔

امریکہ اور روس کے پاس اب بھی زمین پر اور سمندر میں ہزاروں میزائل موجود ہیں جو نیو کلیئر وار ہیڈز سے لیس ہیں۔ ایک بٹن دبا نے کی دیر ہے اور یہ دونوں ملک ایک دوسرے کو تباہ کر سکتے ہیں۔ لیکن سرد جنگ کے دور کے برعکس اب ان میزائلوں کا رُخ ایک دوسرے کے شہروں کی طرف نہیں ہے۔

اور اب جب کہ امریکی صدر براک اوباما نے روس کے ساتھ بہتر تعلقات کو اپنی خارجہ پالیسی میں بنیادی اہمیت دے دی ہے دونوں ملکوں نے دور مار نیوکلیئر ہتھیاروں میں کمی کے نئے اسٹارٹ ((START معاہدے کی توثیق کر دی ہے ۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں روس کے امور کی ماہر اینجیلا سٹنٹ کہتی ہیں کہ ’’سرد جنگ ختم ہو چکی ہے۔ اس لیے اب اتنی بڑی تعداد میں وار ہیڈز کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا ہم نے وار ہیڈز کی تعداد میں بھاری کمی کر دی ہے اور ہم ان میں مزید کمی کریں گے۔ میں سمجھتی ہوں کہ وار ہیڈز کی تعداد میں کمی کرنا بہت ضروری تھا۔‘‘

اینجیلا کہتی ہیں کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان افغانستان کے بارے میں بھی ایک اہم سمجھوتہ موجود ہے۔’’ ہم تقسیم کے شمالی نیٹ ورک سے روسی علاقے کے ذریعے فوجی سازو سامان افغانستان بھیج رہے ہیں۔ اور جیسے جیسے پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں دشواریاں پیدا ہوں گی سامان بھیجنے اور افغانستان میں ہماری کارروائیوں کے لیے یہ راستہ زیادہ اہم ہو جائے گا۔‘‘

ماسکو نے ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی زیادہ سخت پابندیوں کی بھی حمایت کی ہے اور ایران کو S-300 طیارہ شکن میزائلوں کی فراہمی منسوخ کر دی ہے۔ اس کے علاوہ روسی حکومت نے لیبیا پر نو فلائی زون کی مخالفت نہیں کی۔ لیکن اینجیلا سٹنٹ کہتی ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان یورپ میں میزائل شکن نظام کی تنصیب کے امریکی منصوبے کے بارے میں اب بھی اختلاف موجود ہے۔

’’ہماری حکومت نے انہیں بار بار بتایا ہے کہ اس سسٹم کا تعلق ہماری اس تشویش سے ہے جو ہمیں ایران کے نیوکلیئر اسلحہ حاصل کرنے شمالی کوریا کے عزائم اور ان ملکوں کے بارے میں ہے جن سے ہم سب کو خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس نظام کا ہدف روس نہیں ہے۔‘‘

اگلے سال مارچ میں روسی شہری دیمتری میدویدف کی جگہ نیا صدر منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ امکان یہی ہے کہ سابق صدر اور وزیرِ اعظم ولایمر پوتن منتخب ہو جائیں گے۔

بہت سے ماہرین سوچ رہے ہیں کہ کیا پوتن کی عہد صدارت میدویدف انتظامیہ سے مختلف ہو گا۔ امریکہ کے سابق نیشنل قومی سلامتی کے سابق مشیر برینٹ سکوکروفٹ کہتے ہیں کہ ’’ نہیں، میرا یہ خیال نہیں ہے ، کیوں کہ یہ بات بالکل واضح رہی ہے کہ فیصلے کے تمام اختیارات پوتن کے پاس ہی تھے۔ لہٰذا میرے خیال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی۔‘‘ روس میں امریکہ کے سابق سفیر تھامس پیکرینگ کہتے ہیں کہ روس ایسا ملک ہے جس پر توجہ دینا ضروری ہے چاہے ملک کی باگ ڈور کسی کے ہاتھ میں ہو۔

’’میں سمجھتا ہوں کہ روس کے بارے میں بعض باتیں ایسی ہیں جو ہمیں پسند نہیں ہیں اور نہ کبھی ہوں گی۔ اور ہماری بعض چیزیں ایسی ہیں جو روسیوں کو پسند نہیں ہیں ۔ لیکن بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو ہم میں مشترک ہیں۔ ان میں بقائے باہمی کی ضرورت بھی شامل ہے۔‘‘

نومبر2012 ء میں امریکہ کے لوگ بھی صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ لہٰذا یہ امکان موجود ہے کہ 2013ء کا آغاز دونوں ملکوں میں نئے صدور سے ہوگا۔

XS
SM
MD
LG