رسائی کے لنکس

امریکہ اور روس کی طرف سے تخفیف اسلحہ کا معاہدہ

  • آندرے نیسنیرا

امریکہ اور روس کی طرف سے تخفیف اسلحہ کا معاہدہ

امریکہ اور روس کی طرف سے تخفیف اسلحہ کا معاہدہ

امریکہ اور روس 8 اپریل کو پراگ میں ایک نئے معاہدے پر دستخط کریں گے جس کے تحت دور مار نیوکلیئر ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کر دی جائے گی۔

یہ نیا معاہدہ تخفیفِ اسلحہ کے معاہدے سٹارٹ وَن سٹریٹیجک آرمز رڈیکشن ٹریٹی کی جگہ لے گا جس پر امریکی صدر جارج ہربرٹ واکر بُش اور سوویت صدر مخائل گورباچوف نے 1991 میں دستخط کیے تھے ۔ اس معاہدے پر 1994 سے عمل درآمد شروع ہوا تھا لیکن گذشتہ سال پانچ دسمبر کو اس کی میعاد ختم ہو گئی ۔

ایک پرائیویٹ ریسرچ فرم آرمزکنٹرول ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیرل کِمبل کہتے ہیں کہ اسٹارٹ وَن سے سرد جنگ کے خاتمے میں مدد ملی۔ ’’اس معاہدے کے تحت مختلف مقامات پر نصب سٹریٹجک وار ہیڈز کی تعداد تقریباً 10,000 سے گھٹا کر 6,000 کر دی گئی اور ان ہتھیاروں کو ہدف پر پہنچانے والی گاڑیوں یعنی میزائل اور بمبار جہازوں کی تعداد ہر فریق کے لیے 1,600 کر دی گئی۔ دونوں ملکوں نے یہ حدود 2001 میں پوری کر لیں۔ اس معاہدے میں تصدیق کا ایک موئثرنظام بھی قائم کیا گیا جس میں زیادہ توجہ نیوکلیئر ہتھیاروں کو ہدف پہنچانے والے سسٹمز کو ختم کرنے پر دی گئی تھی ۔‘‘

جب سے سٹارٹ ون معاہدے پر عمل شروع ہوا ہے اس وقت سے اب تک امریکہ اور روس نے اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں کے ذخائر میں اور بھی کمی کر دی ہے ۔کِمبل کہتے ہیں کہ گذشتہ اپریل میں دونوں ملکوں نے مزید کمی کے مذاکرات شروع کر دیے تھے جن کے نتیجے میں یہ نیا معاہد ہ عمل میں آیا ہے۔اس کے تحت نیوکلیئر ہتھیاروں کو ہدف پر پہنچانے والی گاڑیوں کی تعداد 800 سے کم ہو جائے گی اورنصب شدہ نیوکلیئر وار ہیڈز کی تعداد بھی ہر ملک کے لیے 1,550 ہو جائے گی۔ آج کل امریکہ نے 2,100 اور روس نے تقریباً 2,200 سے زیادہ وار ہیڈز نصب کیے ہوئے ہیں۔ اس طرح اس نئےسٹارٹ معاہدے کے ذریعے ہر ملک کے لیے نصب شدہ وار ہیڈز کی تعداد میں 25 سے 30 فیصد کمی آئے گی ۔

سنٹر فار آرمز کنٹرول اینڈ نان پرولیفریشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جان اساکس کہتے ہیں کہ نئے معاہدے میں تصدیق کے انتظامات بہت سخت ہوں گے۔’’سرد جنگ کو ختم ہوئے 20 سال ہو چکے ہیں لیکن بات یہ ہے کہ امریکہ اور روس ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔ اسی لیے اب بھی تصدیق کے بہت سخت ضابطے رکھے گئے ہیں۔ شاید یہ اتنے سخت تو نہیں ہیں جتنے اسٹارٹ وَن کے تھے لیکن تصدیق کا انتظام پھر بھی پکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں سب کچھ پتہ ہوگا کہ روسی اپنے نیوکلیئر اسلحہ کے ذخائر کے ساتھ کیا کر رہے ہیں اور اسی طرح انہیں بھی معلوم ہو گا کہ امریکہ کیا کر رہا ہے ۔تصدیق کے کام میں جاسوسی کرنے والے مصنوعی سیارے بھی استعمال کیے جاتے ہیں لیکن زیادہ تر ایک دوسرے کو رپورٹیں بھیجنی ہوتی ہیں، بلکہ انسپکٹروں کو بھی مختلف تنصیبات پر جا کر تصدیق کی سہولتیں فراہم کرنی ہوتی ہے ۔‘‘

امریکہ اور روس کے صدور

امریکہ اور روس کے صدور

امریکہ کا میزائل کے دفاعی نظام کی تعمیر کا منصوبہ دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف کی ایک بڑی وجہ رہا ہے لیکن اساکس کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ طے ہو گیا ہے ۔’’روسی اور امریکی لیڈروں نے جولائی میں اتفاق کیا تھا کہ اس معاہدے میں بعض ایسے مبہم الفاظ ہیں جن سے دفاعی اور جارحانہ ہتھیاروں کے درمیان تعلق کا اشارہ ملتا ہے۔ لیکن یہ سمجھوتہ میزائل کے دفاعی نظام کے بارے میں نہیں ہے۔ اس لیے امریکہ اور روس اپنی مرضی کے مطابق میزائل کے جتنے دفاعی نظام چاہیں نصب کر سکتے ہیں۔‘‘

نئے معاہدے پر 8 اپریل کو پراگ میں دستخط ہوں گے۔ اس کے بعد روسی ڈوما اور امریکی سینٹ کو اس کی توثیق کرنی ہوگی۔ سینٹ کے 100 ارکان میں سے 67 کو اس کے حق میں ووٹ دینا ضروری ہے۔ اساکس کہتے ہیں کہ انہیں امید تو ہے اس معاہدے کی توثیق ہو جائے گی لیکن وہ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے کیوں کہ امریکی سینٹ میں اختلافات بہت زیادہ ہیں۔

سینیٹ میں حال ہی میں علاج معالجے کے نظام کے قانون کے بارے میں بڑی تلخ بحث ختم ہوئی ہے۔بحث کے بعد بعض سینیٹروں نے کہا کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز سال کے بقیہ حصے میں قانون سازی کے معاملے میں ایک دوسرے سے تعاون نہیں کریں گے۔اساکس کہتے ہیں کہ مجھے اس بات کا یقین تو نہیں ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سینٹ میں اس معاہدے کے لیے کم از کم آٹھ ریپبلیکن سینیٹرز کے ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔اگر ریپبلیکنز نے یہ طے کیا کہ وہ سال کے بقیہ حصے میں سینٹ میں کوئی کام نہیں ہونے دیں گےتو پھر یہ معاہدہ اس سال مکمل نہیں ہو سکے گا۔

وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے رپورٹروں کو بتایا کہ قومی سلامتی کے امور میں ہمیشہ دونوں پارٹیوں کی اکثریت ساتھ دیتی رہی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اس بار صورتِ حال مختلف ہو۔

XS
SM
MD
LG