رسائی کے لنکس

امریکی فضائی افواج کی سنٹرل کمان کے کمانڈر نے منگل کے روز ٹیلی کانفرنس کے ذریعے پینٹاگان میں موجود اخباری نمائندوں کو بتایا کہ امریکہ روسیوں کے ساتھ مشترکہ مرکز کے قیام کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے، تاکہ شام میں داعش سے بچاؤ کے مقصد میں مدد دی جا سکے

امریکہ اور روس کی ثالثی میں شام میں طے پانے والی جنگ بندی کو آج دوسرا روز ہے، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ صورت حال بظاہر پُرامن ہے۔

امریکی فضائی افواج کی سنٹرل کمان کے کمانڈر، لیفٹیننٹ جنرل جیفری ہرنجیان نے منگل کو ٹیلی کانفرنس کے ذریعے پینٹاگان میں موجود اخباری نمائندوں کو بتایا کہ امریکہ روسیوں کے ساتھ مربوط مشترکہ مرکز کے قیام کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے، تاکہ شام میں داعش کے انسداد میں مدد دی جا سکے۔

جنرل ہرنجیان کے بقول ’’سات دِنوں تک مخاصمانہ کارروائیاں بند کرنے کی جانب یہ ایک پہلا قدم ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جسے روسی اور شامی حکومت کو لازمی کرنا ہوگا، اور اُنھیں مناسب انداز سے کیا جانا چاہیئے‘‘۔

جنرل نے اِس بات کی تفصیل نہیں بتائی آیا یہ ممکنہ مرکز کہاں قائم ہوگا، ناہی اُنھوں نے یہ بتایا کہ کارروائی میں تعاون کی کیا صورت ہوگی؛ جِن تفاصیل کو اُنھوں نے ’’قبل از وقت‘‘ قرار دیا۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ روس کی جانب سے مبہم انداز کے اہداف اور بغیر حکمت عملی کی بم باری ’’واضح طور پر سبھی کے لیے باعثِ تشویش‘‘ امر ہے، چونکہ تشدد کی کارروائیاں بند کرنے اور مربوط کارروائی کا مقصد شام میں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

امریکہ باقاعدگی سے تیر بہ ہدف ہتھیار استعمال کرتا ہے، جن میں داعش کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کڑی نگرانی سے کام لیا جاتا ہے، انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی جاتی ہے جب کہ اُس کی فضائی افواج کو سخت تربیت سے گزارا جاتا ہے۔ اس طرح، ہرنجیان نے بتایا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ ’’درست ہتھیار صحیح ہدف پر اور بر وقت استعمال کیے جائیں‘‘، تاکہ شہری ہلاکتوں سے بچا جاسکے۔

لڑائی بند کرنے پر عمل درآمد پیر کی شام غروبِ آفتاب سے ہوا۔ چند ہی گھنٹے بعد، امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اعلان کیا کہ تباہ حال ملک میں پانچ برس سے جاری خانہ جنگی بند کرنے کا ’’ممکنہ طور پر یہ آخری موقعہ ہو‘‘۔

XS
SM
MD
LG