رسائی کے لنکس

روس کے شام پر مزید فضائی حملے، واشنگٹن اور ماسکو کا رابطہ


فائل

فائل

پینٹا گون کے مطابق امریکہ اور روس کے اعلیٰ دفاعی حکام نے جمعرات کو شام کی صورتِ حال پر بات چیت کی ہے جس کا مقصد دونوں ملکوں کے جنگی طیاروں کے درمیان شام میں کسی ممکنہ جھڑپ کا روکنا ہے

روس کی جانب سے شام میں فضائی حملوں کے آغاز کے بعد امریکی اور روسی دفاعی حکام کے درمیان ہنگامی رابطہ ہوا ہے۔

امریکی محکمۂ دفاع پینٹا گون کے مطابق دونوں ملکوں کے اعلیٰ دفاعی حکام نے جمعرات کو ٹیلی کانفرنس کے ذریعے شام کی صورتِ حال پر بات چیت کی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ بات چیت کا مقصد دونوں ملکوں کے جنگی طیاروں کے درمیان شام میں کسی تصادم کے خدشے کا تدارک کرنا ہے۔

پینٹاگون کے ایک ترجمان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ بات چیت امریکی محکمۂ دفاع کے دو اعلیٰ اہلکاروں اور ان کے ایک روسی ہم منصب کے درمیان ہوئی ہے جس کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

دونوں ملکوں کے درمیان اس بات چیت سے قبل روسی طیاروں نے مسلسل دوسرے روز بھی شام میں مختلف مقامات پر بمباری کی۔

روسی وزیرِ دفاع ایگور کونا شینکوف نے ایک روسی ٹی وی کو بتایا کہ روسی جنگی طیاروں نے جمعرات کو شام میں داعش کے ایک درجن سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جن میں شدت پسندوں کا ایک کمانڈ سینٹر اور اسلحے کے دو گودام بھی شامل تھے۔

روس نے بدھ کو شام میں فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا اور ماسکو اور دمشق حکومتوں نے دعویٰ کیا تھا کہ روس کی فضائی کارروائیوں کا ہدف شدت پسند تنظیم داعش ہے۔

لیکن حملوں کے فوری بعد شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کےخلاف سرگرم باغی تنظیموں اور حزبِ اختلاف کے اتحاد 'سیرین نیشنل کونسل' کے سربراہ نے الزام عائد کیا تھا کہ روسی طیاروں نے بعض ایسے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جہاں داعش کا وجود نہیں۔

شامی حزبِ اختلاف اور باغیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ روسی طیاروں کی بمباری کےنتیجے میں 35 سے زائد عام شہری ہلاک اور کم از کم آٹھ باغی جنگجو زخمی ہوئے ہیں۔

روسی حکام نے بدھ کو ان الزامات کو مسترد کردیا تھا لیکن جمعرات کو روس نے تصدیق کردی ہے کہ شام میں اس کی فضائی کارروائیوں کا ہدف داعش کے علاوہ دیگر گروہ بھی ہیں۔

روسی حکومت کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے جمعرات کو ماسکو میں صحافیوں کو بتایا کہ شام میں روسی جنگی طیاروں کے اہداف کا تعین شام کی مسلح افواج کی مشاورت سے کیا گیا ہے اور روسی طیارے جن تنظیموں کو نشانہ بنا رہے ہیں "ان سے سب واقف ہیں۔"

برطانیہ میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق روسی طیاروں نے جمعرات کو شام کے جن علاقوں پر بمباری کی ہے وہاں امریکہ کا حمایتِ یافتہ باغی گروہ 'تجمع الیزہ' سرگرم ہے۔

امریکی حکام کےمطابق روس نے بدھ کو شام میں اپنی فضائی کارروائی کے آغاز سے صرف ایک گھنٹہ قبل امریکہ کو اس بارے میں مطلع کیا تھا۔

کارروائی کی اطلاع تاخیر سے دینے پر امریکی وزیرِ دفاع ایش کارٹر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے روسی فوج کا "غیر پیشہ وارانہ رویہ" قرار دیا تھا۔

ایش کارٹر نے الزام عائد کیا تھا کہ روس کی شام میں فضائی کارروائیوں کا مقصد داعش کا خاتمہ نہیں بلکہ اپنے اتحادی بشار الاسد کی حکومت کی مدد کرنا ہے جن کی حکومت کے خاتمے کو امریکہ اور مغربی ممالک شام میں ساڑھے چار سال سے جاری خانہ جنگی کے سیاسی تصفیے کے لیے لازمی قرار دے چکے ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق روسی حکام نے امریکہ درخواست کی تھی کہ جب تک روسی طیارے شام کی فضائی حدود میں پرواز کر رہے ہیں امریکہ وہاں اپنے جنگی طیارے نہ بھیجے۔

لیکن امریکی وزیرِ دفاع نے بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا تھا کہ امریکہ اور اس کےا تحادی شام میں داعش کے خلاف اپنی فضائی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

ایش کارٹر کےا س بیان کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ اگر امریکہ اور روس نے شام میں فضائی کارروائیوں کی تفصیلات اور اہداف سے ایک دوسرے کا لاعلم رکھا تو کسی بھی وقت دونوں ملکوں کے جنگی طیارے ایک دوسرے کےمدِ مقابل آسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ کی قیادت میں بننے والا بین الاقوامی اتحاد گزشتہ کئی ماہ سے شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG