رسائی کے لنکس

میزائل کے دفاعی نظام پرامریکہ اور روس کے ’’اختلافات‘‘

  • آندرے نیسنیرا

امریکہ اور روس نے حال ہی میں تخفیف اسلحہ کے جس نئے سمجھوتے’’ نیو اسٹریٹیجک آرمر ریڈکشن ٹریٹی‘‘ یا سٹارٹ پر دستخط کیے ہیں، اس میں میزائل کے دفاعی نظام کے سوال کو نہیں چھیڑا گیا ہے ۔ لیکن واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان اس معاملے پر اختلافات اب بھی باقی ہیں۔

تخفیف اسلحہ کا نیا سٹارٹ معاہدہ حملے میں استعمال ہونے والے نیوکلیئر اسلحہ کو محدود کرنے کے بارے میں ہے۔ اس معاہدے کے تحت ہر ملک زیادہ سے زیادہ زیادہ سے زیادہ 1,550 دور مار نصب شدہ نیوکلیئروار ہیڈز رکھ سکتا ہے۔ دورمار نیوکلیئر ہتھیاروں کو ہدف پہنچانے والے نظام جیسے انٹرنیشنل بیلسٹک میزائل یا ’’آئی سی ایم بی ایس‘‘یا بھاری بمباروں کی تعداد بھی معاہدے کے تحت گھٹا کر700 کر دی گئی ہے۔

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی بھی فریق معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے، نئے سٹارٹ معاہدے میں تصدیق کی بہت سخت شقیں رکھی گئی ہیں۔

معاہدے میں جس معاملے کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا ہے وہ میزائل کا دفاعی نظام ہے۔ لیکن ایک پرائیویٹ ریسرچ فرم آرمز کنڑول ایسوسی ایشن کے ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر Daryl Kimball کہتے ہیں کہ معاہدے میں جارحانہ اور دفاعی ہتھیاروں کے درمیان تعلق کا ذکر موجود ہے’’

امریکہ اور روس کئی عشروں سے یہ بات جانتے ہیں کہ ہر فریق کے پاس اسٹریٹیجک انٹرسیپٹر کتنی تعداد میں ہیں اور حملے میں استعمال ہونے والی اسٹریٹیجک جارحانہ میزائلوں کی تعداد کتنی ہے اور ان دونوں کے درمیان تعلق موجود ہے۔

یہ بات 1991ء کے تخفیف اسلحہ کے معاہدے سمیت پچھلے تمام معاہدوں کے دیباچوںمیں درج ہے۔ یہ معاہدہ پچھلے معاہدوں سے مختلف نہیں ہے۔ تا ہم معاہدے کی قانونی حدود کا اطلاق صرف حملوں میں استعمال ہونے والی میزائلوں پرہوتا ہے۔

برسوں سے ماسکو یہ کہتا رہا ہے کہ امریکہ کے میزائل شکن نظام کا ہدف روس ہے۔ امریکی عہدے داروں نے اس خیال کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر اور تخفیف ِ اسلحہ کے ماہر جان بولٹن کہتے ہیں کہ ’’ ہم 2001ء سے یعنی جب سے بُش انتظامیہ 1972 کے بلیسٹک میزائل شکن معاہدے سے علیحدہ ہوئی ان سے کہتے رہے ہیں کہ امریکہ کا منصوبہ صرف یہ رہا ہے کہ ہم محدود پیمانے پر ہونے والے نیوکلیئر حملوں کے خلاف میزائل کا دفاعی نظام بنائیں، یعنی ایسے حملوں کے خلاف جو شمالی کوریا، یا ایران، یا اُس زمانے میں عراق کی طرف سے ہونے کا خطرہ ہو‘‘۔

لیکن ماسکو کو امریکہ کے مستقبل کے میزائل شکن نظام کے بارے میں اتنی زیادہ تشویش رہی ہے کہ روسی عہدے داروں نے یکطرفہ بیان جار ی کر دیا کہ اگر واشنگٹن کے میزائل شکن نظام سے روس کی اسٹریٹیجک دفاعی فورس کے لیے خطرہ پیدا ہوا تو وہ نئے سٹارٹ معاہدے سے الگ ہو جائے گا۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ اس قسم کے یکطرفہ بیانات نئے نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ اپنے میزائل کے دفاعی پلان پر کام جاری رکھے گا ’’ہم الاسکا میں فورٹ گریلیی کے مقام پرمیزائل کا دوسرا دفاعی نظام قائم کر رہے ہیں۔ ہم ایک ارب ڈالر سے زیادہ رقم دو اور تین مرحلوں کے زمین سے مار کرنے والے انٹرسیپٹر پروگراموں پر لگا رہے ہیں۔ ہمارا میزائل کا دفاعی نظام بہت جامع ہے اور ہم اسے مکمل کر رہے ہیں۔ روسی جو چاہیں کہتے رہیں۔ اس قسم کے یکطرفہ بیانات معاہدے سے بالکل باہر ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے‘‘۔

نئے سٹارٹ معاہدے کے ناقدین کہتے ہیں کہ ماسکو کے یکطرفہ بیان سے امریکہ کے دفاعی میزائل کے منصوبوں میں خلل پڑتا ہے۔ جان بولٹن کہتے ہیں کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ انھوں نے اگر امریکہ کو میزائل کے حملوں سے دفاع کی ایسی صلاحیت حاصل کرتے دیکھا جس سے انہیں پریشانی ہوئی، تو انہیں معاہدے سے الگ ہونے کا حق ہو گا۔ میرے خیال میں اس طرح امریکہ کی اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت بہت محدود ہو جاتی ہے۔

لیکن بیشتر ماہرین کہتے ہیں کہ نئے سٹارٹ معاہدے سے امریکہ کے میزائل کے دفاعی منصوبوں میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی ۔ Joseph Cirincione نیوکلییئر ہتھیاروں کی پالیسی پر تحقیق کرنے والی فاؤنڈیشن Ploughshares Fund کے صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ’’اس معاہدے سے امریکہ کے میزائل کے دفاعی نظام پرمطلق کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ امریکہ کے ملٹری کمانڈر امریکی کانگریس کے سامنے پہلے ہی ایسے بیانات دے چکے ہیں۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئر مین ایڈمرل مائیکل ملن نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے ہمارا میزائل کا دفاعی منصوبہ محدود نہیں ہوتا۔ میزائل ڈیفینس ایجنسی کے سربراہ جنرل O’Reilly نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے کسی بھی طرح امریکہ کے میزائل کے دفاعی منصوبے متاثر نہیں ہوتے‘‘۔

نافذ العمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ روسی پارلیمینٹ اور امریکی سینیٹ نئے سٹارٹ معاہدے کی توثیق کریں۔ امریکی سینیٹ کے سو ارکان میں سے 67 ارکان کو اس معاہدے کے حق میں ووٹ دینا ضروری ہے ۔ ماہرین کو امید ہے کہ نئے سٹارٹ معاہدے کی توثیق ہو جائے گی، لیکن انہیں یہ نہیں معلوم کہ سینیٹ میں اس معاہدے پر ووٹنگ کب ہوگی۔

XS
SM
MD
LG