رسائی کے لنکس

امریکہ اور روس کی شام کے نئے آئین کے لیے کوششیں


روسی وزیر خارجہ (دائیں) اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ پریس کانفرس میں۔

روسی وزیر خارجہ (دائیں) اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ پریس کانفرس میں۔

کیری اور لاوروف نے کہا کہ پوتن کے ساتھ کئی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا جن میں شام کا مسئلہ سر فہرست رہا۔ اس کے علاوہ یوکرین، یمن، لیبیا، شمالی کوریا اور دیگر مسائل پر بھی بات چیت کی گئی۔

امریکہ اور روس نے مطالبہ کیا ہے کہ اگست تک شام کے نئے آئین کا مسودہ تیار کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے شامی حکومت اور حزب اختلاف سے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، خصوصاً ان قیدیوں کو جو کمزور ہیں یا خطرے سے دوچار ہیں۔

جمعرات کو ماسکو میں چار گھنٹے طویل ملاقات کے بعد امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور روسی صدر ولادیمر پوتن نے اتفاق کیا کہ امریکہ روس تعاون جنگ زدہ شام میں غیر متوقع طور پر جنگ بندی کرانے کامیاب رہا ہے۔

کیری نے کہا کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے آگاہ ہیں مگر ان کی احتیاط سے نگرانی کی جا رہی ہے۔

کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف نے رات گئے کریملن میں طویل مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں کچھ بڑے اختلافات سامنے آئے۔

مگر کیری اور لاوروف دونوں نے وہاں موجود صحافیوں کو یقین دلایا کہ واشنگٹن اور ماسکو شام میں دیرپا امن قائم کرنا، انسانی امداد کی فراہمی میں اضافہ اور سیاسی تبدیلی شروع کرنا چاہتے ہیں۔

ایک امریکی صحافی کو جواب دیتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ نے ایسے حالات پیدا کرنے میں معاونت کی جو افغانستان، لیبیا اور مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے پنپنے کے لیے ساز گار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں کچھ سیاستدان بھی یہی بات کہہ رہے ہیں۔

کیری نے اپنے بیان میں روس کے قریبی اتحادی شامی صدر بشار الاسد کے دور میں ہونے والے ’’ناقابل یقین‘‘ قتل عام کا ذکر کیا اور کہا کہ پوتن نے اب اپنی کچھ فوجوں کے شام سے انخلا کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ انہوں نے اس مداخلت سے صدر اسد کا اقتدار پر قبضہ بحال کر دیا ہے۔

کیری نے کہا کہ یہ بات قابل مذمت ہے کہ شامی حکومت امدادی سامان میں سے طبی اشیا چرا رہی ہے۔

کیری اور لاوروف نے کہا کہ پوتن کے ساتھ کئی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا جن میں شام کا مسئلہ سر فہرست رہا۔ اس کے علاوہ یوکرین، یمن، لیبیا، شمالی کوریا اور دیگر مسائل پر بھی بات چیت کی گئی۔

یوکرین کے بارے میں کیری نے کہا کہ امریکہ اب بھی کرائمیا کے عوام کی خود مختاری کے بارے میں اپنے موقف پر قائم ہے جسے روس نے دو سال قبل ضم کر لیا تھا۔

دونوں وزرا نے مشرقی یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی حل کی حمایت کی اور منسک میں ہونے والے معاہدوں پر عملدرآمد پر زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے منگل کو برسلز میں ہونے والے دہشت گرد حملوں پر بھی بات چیت کی۔ کیری امریکہ کی طرف سے بیلجیئم کے عوام کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اظہار یکجہتی کے لیے جمعے کو یورپ پہنچ رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG