رسائی کے لنکس

امریکہ اور روس کے درمیان تخفیف اسلحہ ایک بنیادی مسئلہ

  • آندرے نیسنیرا

بہت سے تجزیہ کار متفق ہیں کہ بُش انتظامیہ کی آٹھ سالہ مدت کے دوران امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات بتدریج خراب ہوتے گئے اور بہت سے ماہرین سوچتے تھے کہ کیا صدر باراک اوباما اس رجحان کو نیا رُخ دےسکیں گے۔
مسٹر اوباماکے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے چند ہی ہفتے بعد نائب صدر جو بائڈن نے میونخ، جرمنی میں ایک بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے اس سوال کا جواب دیا۔ انھوں نے کہا’’صدر اوباماکے الفاظ میں، اب وقت آگیا ہے کہ reset بٹن دبایا جائے ، یعنی تعلقات کی نئے سرے سے ابتدا کی جائے اور ان بہت سے شعبوں کا جائزہ لیا جائے جن میں ہم روس کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں اور ہمیں ایسا کرنا چاہیئے ۔‘‘
ماہرین کہتے ہیں کہ اس تقریر سے واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان تعلقات میں ایک نئے ، مثبت لب و لہجے کا آغاز ہوا۔ قومی سلامتی کے سابق مشیر ریٹائرڈ ایئر فورس جنرل برنٹ سکوکروفٹ Brent Scowcroft کہتے ہیں کہ موجودہ تعلقات میں کشیدگی موجود ہے لیکن ان میں بہتری آ رہی ہے ۔ انھوں نے کہا’’نفسیاتی اعتبار سے ، reset بٹن کا تصور بہت موزوں ہے ۔ ادھر کئی برسوں سے ہمارے تعلقات میں مسلسل بگاڑ پیدا ہورہا تھا اور یہ بات اہم ہے کہ اس رجحان کو پلٹا جائے ۔ میرا خیال ہے کہ اس کی ابتدا ہو چکی ہے ۔‘‘
تخفیف اسلحہ کے پہلے معاہدے کی مدت جسے یاStrategic Arms Reduction Treatyمختصراً START One کہتے ہیں، 5دسمبر کو ختم ہو گئی ۔ اب دونوں فریق ایک نئے معاہدے کی تفصیلات طے کر رہے ہیں ۔ لیکن دونوں نے کہا ہے کہ جب تک نیا معاہدہ طے پائے، وہ START One کی شقوں پر عمل کرتے رہیں گے ۔

جولائی میں ماسکو میں ایک سربراہ کانفرنس ہوئی جس میں صدر اوباما اور ان کے روسی ہم منصب دمتری میدویدو Dmitri نئے معاہدے کی بنیادی شرائط پر اتفاق کیا ۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے نیوکلیئر وار ہیڈز کے ذخائر میں اور انھیں ہدف پر پہنچانے کے نظاموں ، جیسے میزائل اور دور فاصلے تک جانے والے بمباروں کی تعداد میں کمی کر دیں گے ۔
START One معاہدے میں تصدیق کی بہت سخت شقیں موجود ہیں جن کے بارے میں بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں نئے معاہدے میں شامل کرنا ضروری ہے ۔ سابق وزیر، دفاع James Schlesinger کا بھی یہی خیال ہے ۔ وہ کہتے ہیں’’اصل بات تفصیلات کی ہے ۔ اب تک START معاہدے میں خاص طور سے اس بات کی تصدیق کا انتظام رکھا گیا ہے کہ روسی اپنی حملے میں استعمال ہونے والی فورسز اور اپنے پروڈکشن کمپلیکس کے بارے میں کیا کرتے رہے ہیں۔ اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیئے کہ یہ سلسلہ جاری رہے۔‘‘
بہت سے ماہرین کہتے ہیں کہ روس چاہتا ہے کہ تصدیق کے ضابطے اتنے سخت نہ ہوں جتنے START One معاہد ے میں تھے جب کہ واشنگٹن کی خواہش ہے کہ تصدیق کے انتظامات اور زیادہ سخت ہوں۔ سابق وزیرخارجہ لارنس ایگل برجر Lawrence Eagleburger کہتے ہیں کہ روسیوں کے ساتھ معاملہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے’’نیوکلیئر معاملات میں روسیوں نے وہی رویہ اختیار کر رکھا ہے جس سے ہمیں ماضی میں پریشانی ہو چکی ہے۔ میرے خیال میں انھوں نے حال ہی میں اپنا رویہ سخت کر لیا ہے۔ ان حالات میں یہ انتظامیہ جو روسیوں کے ساتھ تعلقات اچھے کرنے کےلیے بے چین ہے ممکن ہے کہ ان کے ساتھ کوئی تصفیہ کرنے پر تیار ہو جائے۔ میرے خیال میں ایسا کرنا بڑی غلطی ہوگی۔‘‘
مسٹر ایگل برجرکہتے ہیں کہ اس تصفیےکی شکل یہ ہو سکتی ہے کہ تصدیق کی شرائط نرم کر دی جائیں۔ لیکن دوسرے ماہرین کہتے ہیں کہ چونکہ امریکی سینٹ کو کسی بھی معاہدے کی توثیق کرنی لازمی ہے اس لیے سینٹ ہر شق کی ، خاص طور سے تصدیق سے متعلق شقوں کی، بہت احتیاط سے جانچ کرے گی ۔ روسی پارلیمنٹ یا Duma کو بھی معاہدے کی توثیق کرنا ہوگی، لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ محض رسمی سی بات ہوگی۔
XS
SM
MD
LG