رسائی کے لنکس

امریکہ: مزید روسی کمپنیوں، شخصیات پر پابندیاں عائد


ماسکو کی اسٹاک ایکسچینج کا ایک منظر (فائل)

ماسکو کی اسٹاک ایکسچینج کا ایک منظر (فائل)

بدھ کو اعلان کی جانے والی پابندیوں کا دائرہ کار ماضی میں عائد کی جانے والی پابندیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع ہے

یوکرین میں روس کی مبینہ مداخلت کے ردِ عمل میں امریکہ نے مزید کئی روسی اداروں اور شخصیات پر اقتصادی پابندیاں عائد کردی ہیں۔

بدھ کو اعلان کی جانے والی پابندیوں کا دائرہ کار ماضی میں عائد کی جانے والی پابندیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع ہے اور ان کا نشانہ بننے والے ادارے اور کمپنیاں روسی معیشت کے لیے انتہائی اہم تصور کی جاتی ہیں۔

امریکی محکمۂ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری کیے جانےو الے بیان کے مطابق جن کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں روس کی دوسری بڑی گیس کمپنی، ایک سرکاری بینک اور آٹھ اسلحہ فیکٹریوں کے علاوہ کئی بڑے روسی بینک اور توانائی کے شعبے میں میں کام کرنے والی کمپنیاں شامل ہیں۔

بیان کے مطابق پابندیوں کے نتیجے میں ان کمپنیوں کو ڈالرز کی فراہمی ناممکن بنادی گئی ہے لیکن ان میں سے بیشتر کمپنیوں کے امریکہ میں موجود اثاثے منجمد نہیں کیے گئے ہیں۔

پابندیوں کا نشانہ بننے والی کمپنیوں کی فہرست میں یوکرین سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد روس کا حصہ بننے والے علاقے کرائمیا کی ایک شپنگ کمپنی بھی شامل ہے۔

بدھ کو جاری کیے جانے والے حکم نامے کے ذریعے جن روسی شخصیات پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں روسی پارلیمان 'اسٹیٹ ڈوما' کے ڈپٹی اسپیکر، کرائمیا کے امور کے نگران روسی وزیر، روسی انٹیلی جنس ایجنسی 'ایف ایس بی' کے ایک کمانڈر اور یوکرین میں سرگرم ایک روس نواز علیحدگی پسند رہنما شامل ہیں۔

امریکی محکمۂ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کو غیر مستحکم کرنے کی روسی کوششیں بدستور جاری ہیں اور اپنے بیانات کے برعکس روسی حکومت یوکرین میں سرگرم علیحدگی پسندوں کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔

بیان کے مطابق روس کے ان اقدامات کے باعث اس پر اقتصادی پابندیوں کا نفاذ ضروری ہوگیا ہے تاکہ اس پر اقتصادی دباؤ ڈال کر یوکرین میں مداخلت سے باز رکھا جاسکے۔

امریکہ کی جانب سے ان پابندیوں کے اعلان سے قبل بدھ کو برسلز میں ہونے والے ایک اجلاس میں یورپی یونین کے رہنماؤں نے بھی یوکرین بحران کے تناظر میں روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں میں مزید اضافے پر اتفاق کیا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ روس نے ایک بار پھر یوکرین کی سرحد کے ساتھ اپنے فوجی دستے جمع کرنا شروع کردیے ہیں جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

یوکرین کے صدر اور امریکی محکمۂ دفاع 'پینٹا گون' نے اپنے اس الزام کا بھی اعادہ کیا ہے کہ روس سرحد پار یوکرین میں سرگرم علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور دیگر وسائل فراہم کر رہا ہے۔ لیکن ماسکو حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG