رسائی کے لنکس

امریکہ اور روس کوٹیکٹیکل ہتھیاروں پر توجہ دینی چاہیے:ماہرین

  • آندرے نیسنیرا

امریکہ اور روس کوٹیکٹیکل ہتھیاروں پر توجہ دینی چاہیے:ماہرین

امریکہ اور روس کوٹیکٹیکل ہتھیاروں پر توجہ دینی چاہیے:ماہرین

تخفیفِ اسلحہ کا نیا سمجھوتہ دی نیو اسٹریٹیجک آرمز ریڈکشن جسے مختصراً اسٹارٹ کہتے ہیں اور جس پر امریکہ اور روس نے حال ہی میں دستخط کیے ہیں، صرف دور مار نیوکلیئر ہتھیاروں کے بارے میں ہے ۔ کیا واشنگٹن اور ماسکو اب کم فاصلے کے نیوکلیئر ہتھیاروں پر جنھیں ٹیکٹیکل ویپنز کہا جاتا ہے، توجہ دیں گے۔

نئے اسٹارٹ معاہدے نے 1991 کے اسٹارٹ وَن معاہدے کی جگہ لی ہے جو گذشتہ دسمبر میں ختم ہو گیا۔

نئے اسٹارٹ معاہدے میں اسٹریٹجک یا لمبے فاصلے تک مار کرنے والے نیوکلیئر وار ہیڈز کے لیے 1,550 نصب شدہ ہتھیاروں کی حد مقرر کی گئی ہے ۔ ان میں سے کچھ نیوکلیئر بم انٹرکانٹی نینٹل بلسٹک میزائلوں یا ICMBS پر نصب ہوتے ہیں اور انہیں زمین دوز مورچوں سے چھوڑا جاتا ہے ۔ لمبی مار والے وار ہیڈز کو بھاری بمباروں یا آبدوز وں کے ذریعے بھی اہداف پر پہنچایا جاتا ہے ۔

ماہرین کہتے ہیں کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی ایک اور قسم بھی ہے جس پر توجہ دی جانی چاہیئے ۔یہ وہ ہتھیار ہیں جو نئے اسٹارٹ معاہدے کے تحت نہیں آتے۔ انہیں ٹیکٹیکل یا کم فاصلے تک مار کرنے والے نیوکلیئر ہتھیار کہا جاتا ہے ۔ ان میں زمین یا فضا میں نصب میزائل شامل ہیں جن کی حد 500 کلومیٹر سے کم ہوتی ہے اور جنہیں میدانِ جنگ کے ہتھیار بھی کہا جاتا ہے ۔

پرائیویٹ ریسرچ فرم آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر Daryl Kimball کہتے ہیں کہ ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیاروں کے معاملے میں روس کو امریکہ پر واضح برتری حاصل ہے ۔’’کئی غیر جانبدار ذرائع کے مطابق، روس کے پاس ٹیکٹیکل یا کم فاصلے کے نیوکلیئر ہتھیاروں کی تعداد 2,000 سے 4,000 تک ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے صرف چند سو ہتھیار اس طرح نصب ہیں کہ انہیں دنوں یا ہفتوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ بقیہ کہیں دور دراز مقامات میں اسٹور کر دیے گئے ہیں، اور ان کی حالت اتنی خراب ہے کہ وہ استعمال کے قابل نہیں ہیں۔دوسری طرف، امریکہ کے پاس کئی سو ٹیکٹیکل وارہیڈز ہیں، جن میں سے شاید 200 یورپ میں یا یورپ میں نیٹو کے پانچ اڈوں میں محفوظ ہیں۔خیال یہ ہے کہ انہیں یورپ میں جنگ کی صورت میں استعمال کیا جائے گا۔‘‘

بہت سے ماہرین کہتے ہیں کہ یورپ میں روس اور نیٹو کے درمیان جنگ کا امکان تقریباً بالکل نہیں ہے ۔

نیشنل سکیورٹی کونسل کے ایک سابق سینیئر عہدے دار، فرینک ملر کہتے ہیں کہ روس کے پاس اتنی بڑی تعداد میں ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔’’روسیوں کا خیال ہے کہ ان کی روایتی فورسز کی حالت اتنی خراب ہو گئی ہے کہ ان کو ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیاروں پر انحصار کرنا ضروری ہو گیا ہے ۔بیشتر ہتھیاروں کا ہدف چین ہے ۔ لیکن یہ احمقانہ دلیل ہے ۔ایسے ملک کے لیے جہاں چرنوبل کا حادثہ ہو چکا ہے، یہ سوچنا کہ اگر روایتی اسلحہ سے چین کا مقابلہ نہ کیا جا سکا اور نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرنے پڑے، تو بیجنگ کو یہ بتانے کے لیے کہ اس نے غلط اندازہ لگایا ہے، چند ہتھیاروں سے زیادہ نیوکلیئر ہتھیار استعمال کیے جا سکیں گے، عقل و فہم سے بالا تر ہے ۔ اس قسم کے کئی ہزار ہتھیار اپنے پاس رکھنا تو سرا سر پاگل پن ہے ۔‘‘

ماہرین کہتے ہیں کہ روس کے ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیاروں سے سکیورٹی کا ایک مخصوص خطرہ پیدا ہو گیا ہے جو لمبی مار کرنے والے نیوکلیئر وار ہیڈز میں موجود نہیں ہے ۔ Ploughshares Fund کے صدر Joseph Cirincione کہتے ہیں’’اسٹریٹجک وارہیڈز دھات کے بہت بڑے ٹکڑے کے ساتھ لگے ہوتے ہیں۔ یہ کوئی ICBM، بمبار یا آبدوز ہو سکتی ہے ۔ سکیورٹی کے کچھ خطرات ہو سکتے ہیں لیکن چوری کاکوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ لیکن ٹیکٹیکل ہتھیار روس میں درجنوں مختلف اسٹوریج ڈپوز میں بکھرے ہوئے ہیں۔ ان کی چوری کا خطرہ بہت زیادہ ہے ۔ انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جا سکتا ہے۔ وہ کافی بھاری ہوتےہیں لیکن انہیں آپ ایک بڑی وین میں یا ٹرک میں لاد سکتے ہیں۔ تشویش یہ ہے کہ کرپشن یا کسی اور وجہ سے یہ کسی اسلامی بنیاد پرست فورس یا چیچن باغی فورس یا ایسے ہی کسی گروپ کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔‘‘

ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیاروں کے مسئلے کو نئے اسٹارٹ معاہدے میں شامل نہیں کیا گیا ہے ۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اسٹارٹ کے مذاکرات میں اس مسئلے پر بات چیت ہونی چاہیئے تھی۔ لیکن Daryl Kimball جیسے بہت سے ماہرین کہتے ہیں کہ نئے اسٹارٹ معاہدے کا مقصد صرف یہ تھا کہ دور مار نیوکلیئر ہتھیاروں کی تعداد کم کی جائے اور ان کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کی جائے ۔ ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیاروں کو ان مذاکرات میں شامل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔ امریکہ اور روس کے درمیان کبھی ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا جس کے تحت ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیاروں پر کوئی پابندی لگی ہو۔ بہت سے امریکی صدور نے کوشش کی لیکن کوئی کامیاب نہیں ہوا۔

بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان تخفیفِ اسلحہ کے مذاکرات کے اگلے راؤنڈ میں ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار شامل ہوں گے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی نئے مذاکرات صرف اسی صورت میں شروع ہو سکتے ہیں جب امریکی سینیٹ اور روسی پارلیمینٹ نئے اسٹارٹ معاہدے کے توثیق کردیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر یہ معاہدہ مسترد کر دیا گیا، تو اس سے تخفیف اسلحہ پر مزید مذاکرات کے امکانات کو سخت نقصان پہنچے گا۔

XS
SM
MD
LG