رسائی کے لنکس

لیکن، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنا دلچسپی کاباعث ہوگا آیا صدر اوباما اپنی دوسری مدتِٕ صدارت میں امریکہ روس تعلقات کو اتنی ہی اہمیت اور وقعت دیتے ہیں، جتنی کہ اُنہوں نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں دی تھی

امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے روس کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا ہےجو کہ انکی خارجہ پالیسی کا ایک کلیدی حصہ ہے۔

اوبامہ انتظامیہ کے پہلے دور میں خارجہ تعلقات میں تشکیلِ نو کے جو ٹھوس نتائج سامنے آئے اُن میں طویل مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں کمی کے بارے میں سمجھوتہ شامل ہے۔

تجزیہ کار تعاون کی ایک اور مثال کے طور پر ایران کے بارے میں روس کےسخت موٴقف کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کیلئے روس نے اقوام متحدہ میں امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کا ساتھ دیا ہے۔

کلنٹن انتظامیہ میں خدمات انجام دینے والے سابق وزیردفاع، ولیم کوہن کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو ایران پر دباؤ کو جاری رکھنا چاہئیے، تاکہ وہ اپنے جوہری مقاصد سے باز رہے۔

کوہن کے الفاظ میں: ’ورنہ ہم خطے میں مسلسل عدم استحکام دیکھتے رہیں گے اور یہ سوال اٹھتے رہیں گے آیا مستقبل میں کسی قسم کی فوجی کاروائی ہو گی یا نہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔ لیکن، میرے خیال میں تمام ممالک اس سے باز رہنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اور میں تو کہوں گا کہ روس اور چین اور دیگر ممالک کو اِس میں شمولیت اختیار کرنی چاہئیے‘۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان قریبی تعاون کی ایک اور مثال ماسکو کا امریکی افواج کو افغانستان آنے جانے کیلئے روس سے گزرنے کی اجازت دینا تھا۔

سابق امریکی صدور، جیرلڈ فورڈ اور جارج ڈبلیو بش سینئر کے دور میں خدمات انجام دینے والے امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر ، برینٹ سکاؤکروفٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور روس اب ویسے دشمن نہیں رہے جیسا کہ وہ سرد جنگ کو دوران تھے۔

سکاؤ کروفٹ کہتے ہیں،’اگر آپ دنیا پر نظر دوڑائیں، توہمیں کسی بھی شعبے میں ایسا نہیں لگتا کہ روسیوں اور چینیوں کے ساتھ مقابلہ اور تنازعہ ناگزیر ہے۔ اور ہمیں کوشش کرنی چاہئیے اور اس کا فائدہ اٹھانا چاہئیے۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جہاں اسلحے پر کنٹرول، افغانستان اور ایران پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے، وہاں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان بہت سے اہم مسائل پر اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ اِن میں سے ایک مسئلہ شام میں جاری بحران سے نمٹنے کا ہے۔

اوبامہ انتطامیہ کا مطالبہ ہے کہ صدر بشارالاسد کو اپنے عہدے سے علیحدہ ہو جانا چاہئیے۔ ماسکو اس کے خلاف ہے اور اس نے اقوام متحدہ میں شام پر مالی پابندیاں عائد کرنے کیلئے پیش کی جانے والی بہت سی قراردادوں کو ویٹو کر دیا تھا۔

تاہم حال ہی میں ، روس نے اپنےاور صدر اسد کے درمیان فاصلے پیدا کرنے شروع کر دئے ہیں۔

اوبامہ انتظامیہ اور روس کے درمیان یورپ میں بیلسٹک میزائلوں کی دفاعی شیلڈ نصب کرنے پر بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے ۔

اور ایک دوسرا مسئلہ، جس کے بارے میں بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کے صدر ولیدیمیر پیوٹن کے مہذب معاشرے پر مار دھاڑ کی مذمت کرنے میں اوبامہ انتظامیہ پر جوش نہیں رہی۔

اسی طرح کا موقف رکھنے والوں میں صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں اقوام متحدہ کے لئے امریکی سفیر جان بولٹن بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ، اِس سے پیوٹن کا اعتماد جھلکتا ہے کہ وہ کوئی بھی کاروائی کریں ، اُنہیں یہ ڈر نہیں ہے کہ امریکہ کی جانب سے کوئی ردِ عمل ہو گا۔

’ اِس سے اُنہیں مار دھاڑ اور پکڑ دھکڑ کرنے کیلئے حوصلہ ملا ہے۔ یعنی، سیاسی مخالفین کی پکڑ دھکڑ، اقتصادی شعبے میں جبر، جس سے درحقیقت وہ کمیونسٹ انداز میں تو نہیں، لیکن بڑے روایتی انداز میں مرکزی حکومت کا اختیار اور بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہےہیں‘۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنا دلچسپی کا باعث ہو گا کہ کیا صدر اوباما اپنی دوسری مدتِٕ صدارت میں امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات کو اتنی ہی
اہمیت اور وقعت دیں گے جتنی اُنہوں نے اپنی پہلی دورِ صدارت میں دی تھی۔
XS
SM
MD
LG