رسائی کے لنکس

شام کے بحران پر امریکہ اور روس بات چیت کریں گے


فائل فوٹو

فائل فوٹو

شام کے بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے ایک بار پھر امریکہ اور روس کے وزرائے خارجہ اور دیگر شراکت دار ہفتہ کو سوئٹزرلینڈ میں ملاقات کر رہے ہیں۔

امریکہ نے رواں ماہ ہی روس کے ساتھ شام میں جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد سے متعلق براہ راست بات چیت معطل کر دی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری شام کے معاملے پر اتوار کو لندن میں بھی علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

محکمہ خارجہ نے اس امکان کو رد نہیں کیا کہ لوزان میں ہونے والی بات چیت کے موقع پر کیری اور روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے علیحدہ سے "بات چیت" بھی کر سکتے ہیں، لیکن اس کے بقول اس کا مطلب یہ نہیں کہ شام سے متعلق روس اور امریکہ کے معطل شدہ باہمی مذاکرات بحال ہو رہے ہیں۔

مغربی ممالک روس اور اس کے شامی اتحادیوں پر حلب میں اسپتالوں پر بمباری اور اقوا متحدہ کے امدادی قافلوں پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے رہے ہیں۔

ادھر روس کے صدر ولادیمر پوتن نے فرانس کے "ٹی ایف 1" ٹی وی کو بدھ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ روس اور شام پر حلب سے متعلق جنگی جرائم کے الزامات "سیاسی بیانیہ" ہے اور مغرب حقیقی طور پر صورتحال پر توجہ نہیں دے رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ "ہم دہشت گردوں کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کریں۔ ہم انھیں اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ قیدیوں کے گلے کاٹ کر پوری دنیا کو یرغمال بنائیں۔"

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر سرگئی کسلیاک نے منگل کو کہا تھا کہ امریکہ اور روس کے دو طرفہ تعلقات "غلط سمت میں جا رہے ہیں۔"

XS
SM
MD
LG