رسائی کے لنکس

امریکہ یوکرین سے متعلق ’جلد بازی‘ میں اقدامات نہ کرے: روس


روسی اور امریکی وزرائے خارجہ سرگئی لوؤروف اور جان کیری (فائل فوٹو)

روسی اور امریکی وزرائے خارجہ سرگئی لوؤروف اور جان کیری (فائل فوٹو)

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے ٹیلی فوں پر بات چیت میں کہنا تھا کہ روس پر تعزیرات کے اثرات سے امریکہ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

روس نے یوکرین کے مسئلے پر امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ اُس کے ’جلد بازی اور لا پرواہی‘ میں کیے جانے والے اقدامات سے دونوں ممالک کے تعلقات پر برے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ بات روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے ٹیلی فوں پر بات چیت میں کہی۔ لاوروف کا کہنا تھا کہ روس پر تعزیرات کے اثرات سے امریکہ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

ماسکو کی طرف سے یوکرین میں فوجی کارروائی پر واشنگٹن نے ایک صدارتی حکم نامے کے تحت روس کی بعض شخصیات کو ویزا جاری کرنے اور ان سے مالی لین دین پر پابندی عائد کی ہے۔

ادھر صدر براک اوباما نے یوکرین کے بحران پر جرمن چانسلر انگیلا مرکل سے بھی بات کی جس میں وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں قائدین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حالات میں کشیدگی کم کرنے کے لیے روس یوکرین سے براہ راست مذاکرات کرنے کی غرض سے ایک رابطہ گروپ کے قیام پر ’’جلد راضی‘‘ ہو۔

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر یورپی قائدین کی طرف سے کرائمیا سے روسی فورسز کے انخلاء کی ضرورت پر بھی متفق ہیں۔

مسٹر اوباما کا کہنا تھا کہ کرائمیا میں بین الاقوامی مبصر ٹیمیں اور حقوق انسانی کے کارکن بھیجے جائیں اور وہاں مئی میں ہونے والے آزاد اور شفاف صدارتی انتخابات کی ضمانت دی جائے۔

یوکرین کے قائم مقام صدر نے بھی ایک حکم نامے کے ذریعے کرائمیا کی روس سے الحقاق سے متعلق رائے شماری کے عمل کو مسترد کر دیا۔
XS
SM
MD
LG