رسائی کے لنکس

شام: امن مذاکرات سے قبل جنگ بندی پر زور


امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری، ان کے روسی ہم منصطب سرجئی لاوروف اور شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی لخدار براہیمی نے پیر کو پیرس میں ملاقات کی

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری، ان کے روسی ہم منصطب سرجئی لاوروف اور شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی لخدار براہیمی نے پیر کو پیرس میں ملاقات کی

جان کیری نے واضح کیا کہ شام میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر اتفاق کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ متحارب فریق ہی کریں گے

امریکہ اور روس نے شام کے بحران کے حل کے لیے آئندہ ہفتے ہونے والی بین الاقوامی امن کانفرنس سے قبل شام میں متحارب فریقوں کے مابین جنگ بندی کے لیے کوششیں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اتفاقِ رائے امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرجئی لاوروف کے درمیان پیر کو پیرس میں ہونے والی ملاقات میں کیا گیا جس میں شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی لخدار براہیمی نے بھی شرکت کی۔

ملاقات میں تینوں رہنماؤں نے مجوزہ جنگ بندی کا آغاز شام میں لڑائی سے سب سےزیادہ متاثر ہونے والے شہر حلب سے کرنے کی تجویز کی حمایت کی اور فریقین کو لڑائی روکنے پر آمادہ کرنے کے لیے کئی دیگر اقدامات کرنے پر بھی غور کیا۔

امریکی و روسی وزرائے خارجہ اور شام کے لیے عالمی برادری کے خصوصی ایلچی نے صدر بشار الاسد کی حکومت اور ان کے مخالف باغیوں کے درمیان کانفرنس سے قبل اعتماد سازی کے لیے قیدیوں کے تبادلے اور امدادی اداروں کو فریقین کے زیرِ قبضہ علاقوں تک زیادہ رسائی دینے کی تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ ہفتے ہونے والی کانفرنس شام میں گزشتہ تین برسوں سے جاری بحران کے خاتمے کا نکتۂ آغاز ثابت ہوگی۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ ضروری نہیں کہ کانفرنس کے دوران میں شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ طے پاجائے، بلکہ ان کے بقول، اس ضمن میں مثبت آغاز بھی کانفرنس کی کامیابی تصور کیا جائے گا۔

جان کیری نے واضح کیا کہ شام میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر اتفاق کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ متحارب فریق ہی کریں گے جب کہ شام کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ لامحالہ وہاں کے عوام ہی کو کرنا ہوگا۔

'جنیوا – 2' کے عنوان سے ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد شام کے متحارب دھڑوں کو اتفاقِ رائے سے ملک میں ایک عبوری حکومت کے قیام پر آمادہ کرنا ہے جو اپنی نگرانی میں عام انتخابات کرانے کے بعد منتخب نمائندوں کو اقتدار سونپ دے گی۔

شام میں گزشتہ چار دہائیوں سے برسرِ اقتدار اسد خاندان کے چشم و چراغ اور موجودہ صدر بشار الاسد کی حکومت کانفرنس میں شریک ہونے کا اعلان کرچکی ہے لیکن ان کی مخالف جماعتوں کے مرکزی اتحاد ' سیرین نیشنل کولیشن' نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ رواں ہفتے کرے گا۔

اس سے قبل گزشتہ روز امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ شامی حزبِ اختلاف 22 جنوری سے شروع ہونے والی عالمی کانفرنس میں ضرور شریک ہوگی۔

کانفرنس میں عالمی طاقتوں کے علاوہ شام کے پڑوسی ممالک کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG