رسائی کے لنکس

خواتین کی پہلی مسجد کا قیام


لاس اینجلیس کے'پیکو فیتھ سینٹر' کی خواتین مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے150 خواتین جمع ہوئی تھیں، جن میں مقامی خواتین کے علاوہ امریکہ کی دور دراز کی ریاستوں سے آنے والی خواتین بھی شامل تھیں

امریکہ میں ایک ایسی مسجد کا قیام عمل میں آیا ہےجو صرف خواتین کے لیے مخصوص ہے۔ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں میں جمعہ سےمسلمان خواتین کے لیے پہلی مسجد کھول دی گئی ہے، جہاں صرف خواتین نمازیوں کو نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔

لاس اینجلیس کے'پیکو فیتھ سینٹر' کی خواتین مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے150 خواتین جمع ہوئی تھیں، جن میں مقامی خواتین کےعلاوہ امریکہ کی دور دراز کی ریاستوں سے آنے والی خواتین بھی شامل تھیں۔ مسجد کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں نماز جمعہ کےخطبے کے لیےایک خاتون خطیبہ کا تقرر کیا گیا ہے۔

خواتین نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی موقع قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ مساجد میں خواتین کے لیے بالائی منزل یا عقبی حصےکو مخصوص کردیا جاتا ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہےجب انھیں مسجد کےمرکزی ہال میں نماز پڑھنے کا موقع ملا ہے۔

ابتدائی طور پر اگرچہ مسجد میں جمعہ کی نماز مہینے میں ایک بار ادا کی جائے گی۔ لیکن، یہاں آنے والی خواتین نےامید ظاہر کی ہےکہ جلد ہی خواتین کو یہاں ہر جمعہ کی نماز کی ادائیگی کا موقع مل جائے گا۔

شمالی امریکہ کی مساجد اور خواتین کا کردار:

امریکہ کی پہلی مسجد (راس، شمالی ڈکوٹا)

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ امریکہ میں پہلی مسجد کی تعمیر نیویارک یا واشنگٹن جیسے بڑے شہر میں نہیں ہوئی، بلکہ امریکہ کی پہلی مسجد شمالی ڈکوٹا کے ایک چھوٹے سے قصبے 'راس' میں 1929میں تعمیرکی گئی تھی اس مسجد کی تعمیر اس قصبے میں بسنے والے شامی اور لبنانی تارکین وطن نے اپنے ہاتھوں سے کی تھی۔ مورخین اس حوالےسےکہتے ہیں کہ ( امریکہ میں اس سے قبل جو مساجد تھیں وہ پہلےسے موجودعمارتوں میں قائم کی گئی تھیں)۔

اس مسجد پر ایک وقت ایسا بھی آیا جب مسجد کی دیکھ بھال کرنے والے مسلمان خاندان رفتہ رفتہ قصبہ چھوڑ کرچلے گئے یا پھرفوت ہوگئے اور1970 میں ایک دن مسجد کی عمارت منہدم ہوگئی۔ تاہم، اسی قصبے کے ایک مسلمان خاندان کی بیٹی سارہ علی عمر شوبے نےمسجد کی تعمیر کا پھرسے ارادہ کیا جو ان کی زندگی میں پورا نا ہو سکا۔ لیکن، سارا کےانتقال کےبعد ان کےغیرمسلم دوستوں نے سارہ علی کی آخری خواہش کا احترام کرتے ہوئے مسجد کی تعمیر کے لیے قصبےکے لوگوں سےچندہ اکھٹا کیا اوراگلے برس 2005 میں ایک بار پھرسے مسجد کو ازسرنو تعمیر کےبعد کھول دیا گیا۔یہ مسجد پہلی تعمیر سے نسبتا چھوٹی ہے۔ مسجد کے چار مینار اور ایک کانسی کا گنبد ہے لوگ اب یہاں کبھی کبھار نماز پڑھنے کے لیے آتے ہیں لیکن یہ مسجد آج راس میں بسنے والے اولین مسلمانوں کی یادگار سمجھی جاتی ہے۔

دوسری قدیم مسجد (مدر مسجد آف امریکہ)

امریکہ کی دوسری قدیم ترین مسجد کی تعیر امریکی ریاست 'لوا 'میں 1934کی گئی تھی۔ امریکہ کی اس کثیر المقاصد مسجد کو 'مدر ماسک آف امریکہ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ مسجد آج بھی اسلامی ثقافت ووراثت کا ایک اہم مرکز ہے ۔مورخین کا خیال ہے کہ 1880میں لوا میں بسنے والےعرب تارکین وطن نے یہاں پہلےسے آباد عیسائی تارکین وطن کےتعاون سےاس مسجد کی تعمیر کی تھی اور لگ بھگ چالیس برس کےعرصےتک مسجد اپنی اصلی حالت میں موجود رہی جس کی بعد میں ازسرنو تعمیر ہوئی ۔ امریکہ کی مذہبی تاریخ کی ایک اہم جزو کی حیثیت سے اس مسجد کا اندارج تاریخی مقامات کےرجسٹر میں کیا گیا ہے۔

شمالی امریکہ کی (مسجد الرشید)

شمالی امریکہ میں مردوں اور عورتوں کی طرف سے قائم کی جانے والی 'مسجد الرشید' اس طرز کی ابتدائی اداروں میں سے ایک تھی جہاں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی مسجد میں سماجی میل جول کی سرگرمیوں میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا اور خواتین نے کمیونٹی کی تعمیرمیں کلیدی کردار ادا کیا۔

مورخین کے مطابق، شمالی امریکہ میں 1882 میں عرب تارکین وطن کی آمد کے ساتھ کینیڈا میں اپنی جڑیں مضبوط کرنا شروع کر دیں تھیں۔ان دنوں صوبہ البرٹا میں ایڈمنٹن کے شہر میں زیادہ ترشامی تارکین وطن آباد تھے جن میں زیادہ عیسائی اور تھوڑے بہت مسلمان تھے ایسے وقت 'کینیڈین مسلم کونسل' کی سربراہ 'لیلی فہلمان' جو اس وقت کم عمر تھیں انھوں نے، مسلمانوں کے لیے ایک مسجد کےقیام کی ضرورت کو محسوس کیا اور یہ مسئلہ ایک سماجی شخصیت 'ہلوائی ہیمڈن' کے سامنے رکھا، جنھوں نے البرٹا کے مئیر 'جان فرائی' کے سامنے مسلمانوں کے لیے مسجد کی زمین کا مطالبہ رکھا اور دونوں خواتین نے اس شرط پر زمین حاصل کی کہ وہ جلد ہی چندے کی رقم سے مسجد کی تعمیر کا کام مکمل کر لیں گی۔

ہیمڈن نے یہاں رہنے والی عیسائی، یہودی اور مسلمان کمیونٹیوں کے گھروں میں جا کر چندہ اکھٹا کیا جس سےمسجد کی تعمیر شروع ہوئی۔مسجد کا باضابطہ افتتاح 12 دسمبر 1938 میں مئیر جان فرائی کے ہاتھوں سے ہوا۔

مسجد کے قیام کے ابتدائی دنوں میں یہاں مرد اور خواتین کے ایک ساتھ نماز پڑھنے کے حوالے سے تنازع پیدا ہوگیا اور بالآخرخواتین جو پہلے مردوں کے پیچھے نماز پڑھتی تھیں انھیں ایک دن ہال میں سبز پردہ تان کرعلحیدہ کر دیا گیا ۔

یہ چھوٹی سی مسجد اپنی تعمیر کے تین عشرے پورے ہونے تک مسلمان کمونٹی کےلیے ایک بڑا مرکز بن گئی جہاں شادی بیاہ کی تقریبات ، تدفین کی رسومات کےعلاوہ سماجی سرگرمیوں اورلڑکی اور لڑکوں کے رشتے طےکئے جانے لگے تھے۔

جنگ عظیم دوئم کے خاتمے کے بعد عرب تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد ہجرت کر کے ایڈمنٹن پہنچ گئی جس سےمسجد میں نمازیوں کے لیے گنجائش کم رہ گئی لہذا ایک بار پھر سے ہلوائی ہیمنڈن کی پوتی اوران کی سہیلی کی پوتی محمودہ علی مسجد کو بچانےکےلیےآگے آئیں اور دونوں خواتین نےسالوں چندے کی رقم جمع کر کے مسجد کو اس کے اصل مقام سے اٹھا کر البرٹا پارک میں منتقل کرا دیا ا 199 میں یہ مسجد دوبارہ سےتعمیر کےبعد کھول دی گئی۔ اس موقع پرشہر کےقائدین کی جانب سےمسجد کی تعمیر میں شامل خواتین اور مسجد کو بچانے والی نئی نسل کی خواتین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

نور کلچرل سینٹر( ٹورنٹو کینیڈا )

خواتین کی مسجد کی ایک مثال نورکلچرل سینٹر ہےاس عمارت کو 2003لاکھانی خاندان نے خریدا اوراپنے قیام سے لےکراب تک اس ثقافتی مرکز کا انتظام خواتین چلاتی آرہی ہیں جس کی صدر سمیرہ کانجی ہیں یہاں پہلی بار عبادات کے لیے مخصوص جگہ کےعلاوہ خواتین کی سوشل سرگرمیوں کے لیےہال ،کھیل کی کلاسیں اور لیکچرروم تعمیر کئے گئے یہ سینٹرکینیڈا کی مسلم برادری میں ثقافتی تعلیم اور باہمی روابط کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے ۔

مورگن ٹاؤن مسجد کا تنازع

شمالی امریکہ کی مساجد میں صنفوں کی علحیدگی ایک معمول کی بات ہے، لیکن 2003 میں مغربی ورجینیا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اسرا نعمانی نے مورگن ٹاون کی مقامی مسجد میں خواتین نمازیوں کےپچھلے دروازے سےداخلے کے خلاف آواز بلند کی اورمسلم کمیونٹی کےسامنےخواتین کی مسجد میں شرکت کےحوالےسے سوالات اٹھائےجبکہ مورگن ٹاون تنازع کو دستاویزی فلم کے ذریعے بھی پیش کیا گیا ۔

یورپ اورامریکہ میں بنیادی طورپر اسلامی عبادات کی ادائیگی کی جگہ کے طور پر مخصوص مساجد اب کمیونٹی کی تعمیر کے اداروں کےطورپرکام کر رہی ہیں لیکن ان پیش رفتوں کےباوجود مساجد میں خواتین کےکرداراورانھیں مکمل طور پر سمونے کےحوالےسےآج بھی مساجد کو مشکلات کا سامنا ہے گو مغربی ملکوں میں مساجد میں خواتین کوخیرمقدمی ماحول فراہم کرنےکےحوالےسے بہت کام کیا گیا ہے لیکن امریکہ میں خواتین کے لیے مسجد کا قیام ایک تاریخ سازعہد کا آغاز ہو سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG