رسائی کے لنکس

امریکہ: ہم جنس شادیوں کے حق میں فیصلہ


کیلی فورنیا کے بارے میں آنے والے فیصلے سے قبل واشنگٹن ڈی سی کے علاوہ امریکہ کی 12 ریاستوں میں ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت حاصل تھی۔

امریکہ کی عدالت عظمٰی نے ہم جنس شادیوں کے حق میں فیصلہ سنایا ہے جس کے بعد ایسے رشتوں کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

بدھ کو سپریم کورٹ نے شادی کے تحفظ کے 1996ء میں منظور کیے جانے والے وفاقی قانون کو کالعدم قرار دے دیا۔ یہ قانون ہم جنس شادی شدہ جوڑوں کو سرکاری نوکریوں میں ٹیکس، صحت اور پنشن جیسے فوائد حاصل کرنے سے محروم رکھتا تھا۔

چار کے مقابلے میں پانچ ججوں نے ہم جنس شادیوں کے حق میں فیصلہ دیا۔

یہ مقدمہ 84 سالہ ایڈی ونڈسر نے دائر کیا تھا جنہیں ایک خاتون تھئی سے شادی کی وجہ سے ٹیکس میں چھوٹ جیسی سہولت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ تھئی 2009ء میں انتقال کر گئی تھیں۔

ایڈی ونڈسر

ایڈی ونڈسر


ایڈی نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ قانونی مساوات کی پاسداری کے لیے سپریم کورٹ کے ججوں کا ’’شکریہ ادا‘‘ کرتی ہیں۔

’’تمام ہم جنس لوگوں اور ان کے حامی جنہوں نے مجھے مبارک دی، ان کا شکریہ اور مجھے یقین ہے کہ تھئی بھی آپ کا شکریہ ادا کر رہی ہوں گی۔‘‘

ایک دوسرے عدالتی فیصلے میں ریاست کیلیفورنیا میں بھی ہم جنسوں کی شادی میں رکاوٹ کو دور کردیا گیا۔

کیلیوفورنیا کے بارے میں آنے والے فیصلے سے قبل واشنگٹن ڈی سی کے علاوہ امریکہ کی 12 ریاستوں میں ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت حاصل تھی۔

ہم جنس شادیوں کی مخالفت کرنے والوں نے عدالتی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اس اقدام کے مخالف کنساس ریاست سے تعلق رکھنے والے رپبلکن کانگریس مین ٹم ہوئلسکمپ کا کہنا تھا کہ اس فیصلے میں ’’بچوں کی ضروریات پر بالغوں کی خواہشات کو فوقیت دی گئی ہے۔ ہر بچے کا حق ہے کہ اس کی ایک ماں اور ایک باپ ہو۔‘‘

صدر براک اوباما نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ایک غطلی کو درست کیا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG