رسائی کے لنکس

دہشت گردی اور مالی انٹیلی جنس کے قلم دان کے امریکی معاون وزیر، ایڈم جے زوبین نے کہا ہے کہ حزب اللہ ’اپنے کاروباری تعلقات کو بڑھانے، انتظام چلانے اور دہشت گردی کے لیے فنڈ کی منتقلی کے حربے استعمال کرنے کے لیے‘، علی یوسف شرارہ کی مدد حاصل کرتا رہا ہے

امریکی محکمہٴ خزانہ نے جمعرات کے روز حزب اللہ کے حامی ایک اہم نیٹ ورک سے منسلک، مالی اعانت دہندہ اور رُکن، علی یوسف شرارہ اور اُن کی مواصلات سے متعلق کمپنی، ’اسپیکٹرم انویسٹمنٹ گروپ‘ پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔
شرارہ کو حزب اللہ سے لاکھوں ڈالر ملتے رہے ہیں، جنھیں گروپ کی مالی امداد کے مقاصد سے وہ تجارتی منصوبوں میں لگاتا رہا ہے۔

دہشت گردی اور مالی انٹیلی جنس کے قلم دان کے امریکی معاون وزیر، ایڈم جے زوبین نے کہا ہے کہ ’اپنے کاروباری تعلقات کو بڑھانے، انتظام چلانے اور دہشت گردی کے لیے فنڈ کی منتقلی کے حربے استعمال کرنے کے لیے حزب اللہ اپنے اس ساتھی کا سہارا لیتا رہا ہے‘۔

زوبین نے بتایا ہےکہ حکومت امریکہ حزب اللہ پر دباؤ ڈالتا رہا ہے؛ ’اور لبنان، شام اور مشرق وسطیٰ میں اُس کی تشدد کی کارروائی کی صلاحیت کو کم کرنے کے لیے، اُن کے مالیاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے، اُن کے بارے میں انکشاف کرنے اور اُنھیں ختم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے‘۔

حزب اللہ کی کاروباری سرمایہ کاری میں شرارہ کے سہولت کار کے طور پر کردار کے علاوہ اُنھوں نے حزب اللہ کے رُکن آدم تباجہ اور حزب اللہ کے مالی معاونت پر مامور قاسم حجیجی کے عراق میں تیل کا کاروبار بھی سنبھالے رکھا۔ امریکی محکمہ خزانہ پہلے ہی اِن دونوں کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔

تباجہ کےحزب اللہ کے سینئر اہل کاروں اور حزب اللہ کی حربی کارروائیوں میں شریک، ’اسلامی جہاد‘ سے براہ راست تعلقات رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG