رسائی کے لنکس

امریکی محکمہٴ خارجہ نے یمن، سعودی عرب اور لیبیا میں القاعدہ سے منسلک گروپوں اور اسلامی انتہا پسند گروہوں کے خلاف تعزیرات لاگو کی ہیں۔ سنہ 2015 کے دوران، امریکہ نے دنیا بھر کے 30 سے زائد رہنماؤں اور گروہوں کے خلاف اسی قسم کی تعزیرات لاگو کیں

اوباما انتظامیہ نےجمعرات کے روز بتایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجود داعش کی شاخوں کو عالمی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا گیا ہے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نے یمن، سعودی عرب اور لیبیا میں القاعدہ سے منسلک گروپوں اور اسلامی انتہا پسند گروہوں کے خلاف تعزیرات لاگو کی ہیں۔

ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہٴ خارجہ ’’اُن غیر ملکیوں پر پابندیاں عائد کرتا ہے جنھوں نے دہشت گردی کی حرکات کی ہوں یا جن سے اِن حربوں کا خدشہ لاحق رہا ہو جس سے امریکی شہریوں، قومی سلامتی، خارجہ پالیسی، یا امریکہ کی معشیت کو سکیورٹی کے خدشات لاحق ہوں‘‘۔

جمعرات ہی کے روز، امریکی محکمہٴ خزانہ نے اُن افراد پر تعزیرات لگائی ہیں جنھوں نے داعش کے شدت پسندوں کے ساتھ منسلک گروہوں کی حمایت میں یا اُن کے لیے رقوم اکٹھی کی ہوں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد قرار دینے کے طریقہٴ کار سے ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے گروہوں کو امریکی مالیاتی نظام تک رسائی بند کی جاتی ہے، جس کا بالآخر یہ مطلب ہوتا ہے کہ امریکیوں کے لیے ایسے افراد کے ساتھ کاروبار کی ممانعت ہے، جب کہ امریکی تحویل میں ایسے لوگوں کی ملکیت منجمد کردی جا تی ہے۔

بیان کے مطابق، ’’(دہشت گرد قرار دیے جانے سے) امریکی حکومت کے لیے رابطہٴ کار کے تحت اقدام ممکن ہوتا ہے، اور اپنے بین الاقوامی پارٹنررز دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے‘‘۔

سنہ 2015 کے دوران، امریکہ نے دنیا بھر کے 30 سے زائد رہنماؤں اور گروہوں کے خلاف اسی قسم کی تعزیرات لاگو کیں۔ داعش کے رہنماؤں اور لڑاکوں کے خلاف حملوں کے علاوہ، امریکہ نے اُس مالیاتی ڈھانچے پر ہاتھ ڈالا ہے جس سے اُن کی مالی حمایت ہوتی ہے۔

XS
SM
MD
LG