رسائی کے لنکس

امریکہ کی طرف سے کم جونگ اُن پر پابندی عائد


شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن

جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں امریکی پابندی کو "انتہائی خوش آئند" قرار دیتے ہوئے سراہا

امریکہ نے پہلی مرتبہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کا نام بھی انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی بنا پر پابندی کی زد میں آنے والوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

واشنگٹن کی اس فہرست میں تقریباً ایک درجن کے قریب ایسے افراد اور ادارے شامل ہیں جنہوں نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، منحرفین کے خلاف کارروائیوں اور دیگر قدغنین لگانے میں مبینہ طور پر کردار ادا کیا۔

ایک امریکی عہدیدار نے اعلان کیا کہ "ہم نے اپنی رپورٹ میں ایسے 23 افراد اور اداروں کی نشاندہی کی ہے جن میں کم جونگ اُن بھی شامل ہیں۔ ہمارا یہ فیصلہ ہے کہ وہ (کم) اپنی حکومت کے اقدام کے کلی طور پر ذمہ دار ہیں جن میں اپنے عوام کے لیے جابرانہ پالیسیاں بنانا بھی شامل ہے۔"

محکمہ خزانہ کے قائم مقام نائب وزیر ایڈم زوبن کا کہنا تھا کہ "کم جونگ اُن کی زیر قیادت، شمالی کوریا اپنے لاکھوں لوگوں کے لیے ناقابل برداشت بے رحمانہ مشکلات کو بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔"

جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں امریکی پابندی کو "انتہائی خوش آئند" قرار دیتے ہوئے سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ "اس سے دنیا کو کم جونگ اُن کی سربراہی میں شمالی کوریا کی خلاف ورزیوں کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔"

پابندی کا نشانہ بننے والے افراد اور اداروں کے ساتھ نہ تو کوئی امریکی لین دین کر سکتا ہے جب کہ امریکی دائرہ کار میں آنے والے مالیاتی اداروں اور مقامات پر ان افراد اور اداروں کے اثاثے بھی منجمد ہو جاتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دنیا میں اپنی نوعیت کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔ ان میں سیاسی مخالفین کو قید کرنا بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG