رسائی کے لنکس

دہشت گردوں کی 'معاونت' پر چار افراد اور دو تنظیموں پر پابندی عائد


امریکی محکمہ خزانہ

امریکی محکمہ خزانہ

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق میک لینٹوک نے اپنی تنظیم کے ذریعے مبینہ طور پر افغان یتیم بچوں کو رقم فراہم کی جب کہ صوبہ کنڑ میں طالبان عسکری سرگرمیوں کے لیے بھی معاونت کی۔

امریکہ اور سعودی عرب نے چار افراد اور دو تنظیموں پر مشبتہ طور پر دہشت گردوں کے لیے مالی وسائل مہیا کرنے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکہ محکمہ خزانہ کے ایک بیان کے مطابق جیمز ایلگزینڈر میک لینٹوک نامی ایک شخص اور پاکستان میں موجود اس کی تنظیم "الرحمہ ویلفیئر آرگنائزیشن" بھی پابندی کی زد میں آئی ہیں اور محکمے کے بقول یہ فلاحی تنظیم یتیم بچوں کی مدد کی آڑ میں القاعدہ، طالبان، لشکر طیبہ اور دیگر افغان انتہا پسند گروپوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرتی ہے۔

"2013ء کے اوائل تک میک لینٹوک نے افغان عسکریت پسندوں کو بھرتی کیا تاکہ وہ بچوں کی تصاویر، افغان شناختی دستاویزات اور فون نمبرز حاصل کریں جس سے عطیات جمع کرنے کے لیے دھوکہ دہی کے ساتھ دستاویزات تیار کی جانی تھیں۔"

محکمہ خزانہ کے مطابق میک لینٹوک نے اپنی تنظیم کے ذریعے مبینہ طور پر افغان یتیم بچوں کو رقم فراہم کی جب کہ صوبہ کنڑ میں طالبان عسکری سرگرمیوں کے لیے بھی معاونت کی۔

اس شخص نے اپریل 2011ء اور اپریل 2012ء کے درمیان برطانیہ میں عطیات دینے والوں سے ایک لاکھ 80 ہزار ڈالر وصول کیے اور اس کے علاوہ خلیجی ریاستوں کے خیراتی اداروں سے بھی رقوم حاصل کیں۔

میک لینٹوک پر یہ بھی شبہ ہے کہ اس نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے لیے غیرقانونی طور پر رقم منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دیسی ساختہ بموں کے پرزے بھی اسمگل کیے۔

پابندی عائد کیے جانے والوں میں عبدالعزیز نورستاتی اور پشاور میں ان کا مدرسہ جامعہ عصریہ بھی شامل ہیں اور ان پر دہشت گرد گروپوں کی حمایت کرنے اور طلبا کو عسکری تربیت کے لیے بھرتی کرنے کا شبہ ہے۔

جن دیگر دو افراد پر پابندی عائد کی گئی ان میں نوید قمر اور محمد اعجاز سفارش بھی شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نوید قمر مبینہ طور لشکر طیبہ میں کئی اہم عہدوں پر رہنے کے علاوہ ایک تربیتی کیمپ چلانے، کراچی سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند کمانڈروں کی نگرانی کرنے اور دہشت گرد گروپ کے لیے رقوم جمع کرنے میں معاونت فراہم کرنے میں ملوث ہے۔

محمد اعجاز سفارش بھی کئی برسوں تک مبینہ طور پر لشکر طیبہ کے ساتھ منسلک رہا جو کہ سفری دستاویزات کے حصول اور سعودی عرب میں رقوم کی منتقلی میں معاونت فراہم کرتا تھا۔

محکمہ خزانہ نے ان تمام افراد اور تنظیموں کو عالمی دہشت گردوں کی خصوصی فہرست میں شامل کر لیا ہے اور اس اقدام کے بعد ان کے امریکہ میں تمام اثاثے منجمد ہوگئے ہیں اور امریکیوں پر ان کے ساتھ کسی بھی طرح کا لین دین کرنے پر پابندی ہو گی۔

سعودی عرب نے بھی ان تمام افراد اور تنظیموں پر ایسی ہی پابندی عائد کی ہے۔

XS
SM
MD
LG