رسائی کے لنکس

کوبانی میں سیکڑوں شدت پسند مارے گئے، پینٹاگون


صحافیوں اور فوٹوگرافر ترکی کی سرحد سے کوبانی میں ہونے والی لڑائی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

صحافیوں اور فوٹوگرافر ترکی کی سرحد سے کوبانی میں ہونے والی لڑائی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

'پینٹاگون' کے ترجمان نے کہا کہ اتحادی افواج کے فضائی حملوں کے باوجود شہر پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہونے کا خدشہ اب بھی موجود ہے۔

امریکی محکمۂ دفاع 'پینٹاگون' نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے محاصرے کا شکار شام کے سرحدی شہر کوبانی کے گرد امریکی فوج کی بمباری میں سیکڑوں شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

'پینٹاگون' کے ترجمان ریئر ایڈمرل جان کربی نے بدھ کو واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکی فوج کو یقین ہے کہ حالیہ چند روز کے دوران کوبانی کے ارد گرد اتحادی افواج کے فضائی حملوں میں سیکڑوں شدت پسند مارے گئے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کوبانی پر فضائی حملوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ علاقے میں شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت اور پیش قدمی تھی۔

تاہم 'پینٹاگون' کے ترجمان نے کہا کہ اتحادی افواج کے فضائی حملوں میں اضافے اور شدت پسندوں کو پہنچنے والے نقصان کے باوجود شہر پر دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہونے کا خدشہ اب بھی موجود ہے۔

جان کربی نے صحافیوں کو بتایا کہ صرف گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی قیادت میں بننے والے بین الاقوامی اتحاد نے کوبانی میں شدت پسندوں پر 40 فضائی حملے کیے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ عراق میں موسم کی خرابی کے باعث اتحادی افواج کو فضائی حملوں میں دشواری پیش آرہی ہے جس کے سبب اتحاد کی تمام تر توجہ اور وسائل اس وقت شام پر مرکوز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع اس کرد اکثریتی شہر کی صورتِ حال اب بھی گھمبیر ہے۔ ان کے بقول شہر کا کنٹرول بدستور اس کے دفاع پر مامور کرد جنگجووں کے ہاتھ میں ہے جب کہ بعض علاقوں پر دولتِ اسلامیہ کے جنگجو قبضہ کرچکے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ شدت پسندوں جیسے جیسے شہر کے زیادہ علاقوں پر قابض ہوں گے، اتحادی افواج کو حملوں کے لیے مزید اہداف ملیں گے اور نتیجتاً شدت پسندوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔

شدت پسندوں نے گزشتہ ایک ماہ سے کوبانی کا محاصرہ کر رکھا ہے لیکن انہیں شہر کے دفاع پر مامور کرد جنگجووں کی سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

شہر اور اس کے گرد و نواح کی بیشتر آبادی لڑائی سے بچنے کے لیے ترکی میں پناہ لے چکی ہے اور جان کربی کے بقول شہر میں اب صرف "چند سو عام افراد" رہ گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG