رسائی کے لنکس

یوکرین کو اسلحے کی فراہمی زیرِ غور نہیں، امریکہ


فائل

فائل

'وہائٹ ہاؤس' کی یہ تردید ایک امریکی سفارت کار کے اس دعوے کے فوراً بعد آئی ہے کہ اوباما انتظامیہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی پر غور کر رہی ہے۔

'وہائٹ ہاؤس' نے کہا ہے کہ واشنگٹن یوکرین کو "مہلک"امداد فراہم کرنے کی کسی تجویز پر غور نہیں کر رہا اور امریکی صدر براک اوباما یوکرین کے بحران میں ہونے والی پیش رفت پر جلد روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

پیر کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے 'وہائٹ ہاؤس' کے ترجمان جے کارنے نے بتایا کہ امریکی حکومت اپنی حمایت کے اظہار کے لیے یوکرین کی معاشی اور سفارتی اعانت سمیت مختلف طریقوں پر غور کر رہی ہے لیکن فی الحال کیو حکومت کو ہتھیاروں کی فراہمی کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں۔

'وہائٹ ہاؤس' کی جانب سے یہ تردید امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے ایک مشیر کے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اوباما انتظامیہ یوکرین کو اسلحے کی فراہمی پر غور کر رہی ہے۔

برلن میں موجود امریکی محکمۂ خارجہ کے اعلیٰ اہلکار تھامس شینن نے اپنے دورے کے دوران صحافیوں کو بتایا تھا کہ یوکرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے امریکہ کئی اقدامات پر غور کر رہا ہے جن میں کیو حکومت کو ہتھیار فراہم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

تاہم امریکی ہلکار نے واضح کیا تھا کہ اس ضمن میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور یہ واضح نہیں کہ امریکی حکومت یہ تجویز منظور کرے گی یا نہیں۔

امریکہ کی جانب سے یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے کی تجویز پہلے پہل ری پبلکن سینیٹر اور سابق صدارتی امیدوار جان مک کین نے پیش کی تھی جنہوں نے مشرقی یوکرین میں جاری شورش کو "یوکرین کی تقسیم کی روسی سازش" قرار دیتے ہوئے اوباما انتظامیہ سے اس کے خلاف ٹھوس قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔

روس مغربی ممالک کی جانب سے مشرقی یوکرین میں جاری پرتشدد مظاہروں کی پشت پناہی کرنے کے الزام کو مسترد کرچکا ہے جہاں روس نواز مظاہرین نے کئی سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

یوکرین کے مشرقی علاقے اور صنعتی مرکز ڈونیسک پر قابض مظاہرین نے علاقے کو 'آزاد جمہوریہ ' قرار دیتے ہوئے روس سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

پیر کو شہری انتظامیہ کے دفاتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علیحدگی پسند مظاہرین کے ایک رہنما نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے اپیل کی کہ وہ علاقے کے لوگوں کو یوکرین کے سکیورٹی اداروں سے بچانے کے لیے آگے آئیں۔

مداخلت کی اس اپیل کے جواب میں روس کے صدارتی ترجمان نے کہا ہے کہ صدر پیوٹن کو خطے کی صورتِ حال پر گہری تشویش لاحق ہے اور وہ علاقے میں پیش آ نے والے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکہ اور مغربی ممالک کا الزام ہے کہ روس مشرقی یوکرین میں آباد روسی بولنے والے باشندوں کے احتجاج کو ہوا دے رہا ہے تاکہ کرائمیا کی طرح علاقے میں اپنی فوج داخل کرسکے۔

یوکرین کی خفیہ ایجنسی نے ڈونیسک میں مظاہرین کے رہنماؤں اور روسی فوجی کمانڈروں کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ریکارڈ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے جس میں علاقے کے علیحدگی پسند رہنما مبینہ طور پر روسی فوجی افسروں سے ہدایات لے رہے ہیں۔

تاہم روس کے وزیرِ خارجہ سرجئی لاوروف نے واضح کیا ہے کہ مشرقی یوکرین میں جاری احتجاج اسی صورت میں ختم ہوگا جب یوکرینی حکومت علاقے میں بسنے والی روسی نژاد آبادی کے تحفظات کا ازالہ کرے گی۔
XS
SM
MD
LG