رسائی کے لنکس

امریکہ کے بیماریوں کی روک تھام کے ادارے نے اندازہ لگایا ہے کہ امریکہ میں سالانہ تین سے 11 سال کی عمروں کے ساٹھ لاکھ سے ایک کروڑ بیس لاکھ بچوں کو جوئیں پڑتی ہیں۔

امریکی بچے گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے بعد سکول واپس جا رہے ہیں مگر محکمہ صحت کے حکام نے سر کی جوؤں کی ایک نئی قسم کے بارے میں خبردار کیا ہے جو روایتی طور پر استعمال کی جانے والی جوں مار ادویات کے خلاف مدافعت رکھتی ہے۔

خارش پیدا کرنے والے اس کیڑے سے نجات پانا مشکل ہے اور یہ بچوں کے اسکول سے غیر حاضر رہنے کا سبب بن سکتی ہیں۔

گزشتہ ہفتے امریکن کیمیکل سوسائٹی نے بوسٹن میں اپنے سالانہ اجلاس میں ایک نئی تحقیق پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ کم از کم 25 ریاستوں میں جوؤں نے جوں مار دوا پائری تھرائڈ کے خلاف مدافعت پیدا کر لی ہے، جسے مختلف مصنوعات میں استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکہ کے بیماریوں کی روک تھام کے ادارے نے اندازہ لگایا ہے کہ امریکہ میں سالانہ تین سے 11 سال کی عمروں کے ساٹھ لاکھ سے ایک کروڑ بیس لاکھ بچوں کو جوئیں پڑتی ہیں۔

اس سے قبل والدین جوں مار مصنوعات میں سے کوئی بھی چیز خرید لیتے تھے جو چند دن کے اندر جوؤں کا خاتمہ کر دیتی تھی۔ مگر جوؤں کا یہ علاج اب بیشتر اوقات کام نہیں کرتا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جوؤں نے ان دواؤں کے خلاف مدافعت پیدا کر لی ہے۔

جب روائتی طریقے کام نہیں کرتے تو والدین ڈاکٹر کے پاس جوؤں سے نجات کے لیے نسخہ لکھوانے جاتے ہیں۔ مگر کچھ والدین بچوں پر سخت دوائیں استعمال کرنا پسند نہیں کرتے اور قدرتی طریقوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

کیلیفورنیا کی ایک ماں نے دوسرے والدین کے ساتھ مل کر ’نٹ فیریز‘ کے نام سے جوؤں سے قدرتی طریقوں سے نجات پانے کا کاروبار شروع کیا ہے۔

’’ہم قدرتی تیل کے ذریعے جوؤں کا علاج کرتے ہیں اور ہم جوئیں ختم کرنے کی ضمانت دیتے ہیں۔ یہ جوں مار ادویات سے پاک طریقہ ہے۔ ہم کنگھی کے ذریعے بچوں کی جوئیں پکڑتے ہیں تاکہ والدین کو یہ کام گھر میں نہ کرنا پڑے۔‘‘

ورجینیا میں گیری وولبرگ نے تین سال قبل جوئیں ختم کرنے کا کاروبار اس وقت شروع کیا جب ان کی بیٹی ریچل کو جوئیں پڑ گئیں۔ وہ جوؤں کے انڈوں کو مارنے کے لیے حدت کا استعمال کرتے ہیں۔

’’یہ طریقہ جوؤں میں موجود نمی کو گرم ہوا سے خشک کر دیتا ہے (جس سے وہ مر جاتی ہیں)، اور اگر بالوں میں کوئی انڈے ہوں تو ان میں سے بھی نمی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ سکڑ جاتے ہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے مرغی کے ڈربے میں ابلا ہوا انڈا چھوڑ دیا جائے۔ اس میں سے بچہ نہیں نکلے گا۔‘‘

اچھی خبر یہ ہے کہ جوؤں سے کوئی بیماری پیدا نہیں ہوتی۔ یہ ٖصرف تنگ کرتی ہیں اور ان سے نجات حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG