رسائی کے لنکس

سلامتی کونسل: شام میں امداد پہنچانے کی قرارداد منظور


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سمانتھا پاور کا کہنا تھا کہ اس سے لوگوں کو انتہائی ضروری خوراک اور ادویات کی فراہمی میں اضافہ ہو گا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک شام کے تقریباً 20 لاکھ افراد کے لیے انتہائی ضروری امداد پہنچانے کی ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے۔

کئی ہفتوں کے مذاکراتی عمل کے بعد روس اور چین نے بھی اس اقدام کی منظوری میں کونسل کے ارکان کا ساتھ دیا۔

سفارتکاروں کو توقع ہے کہ یہ قرارداد زیادہ پر اثر ہو گی اور اس سے اقوام متحدہ کے کی امدادی ایجنسیاں اور ان کے شریک ادارے دمشق کی اجازت کے بغیر شام میں داخلے کے لیے چار اضافی سرحدیں استعمال کر سکیں گے۔ ان میں سے دو ترکی اور شام کے، ایک عراق اور ایک اردن کی سرحدی راستے ہوں گے۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سمانتھا پاور کا کہنا تھا کہ اس سے لوگوں کو انتہائی ضروری خوراک اور ادویات کی فراہمی میں اضافہ ہوگا۔

"اگر پوری طرح سے اس قرارداد پر عمل ہوتا ہے تو اس سے تقریباً بیس لاکھ ایسے شامی باشندوں کو انتہائی ضروری امداد پہنچائی جا سکے گی جنہیں گزشتہ سال دینے کی اجازت نہیں دی گی جس کا نتیجہ ان کی تکالیف میں بے پناہ اضافے کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ قرارداد اقوام متحدہ کو شام کی حکومت اور باغیوں کے درمیان لڑائی والے علاقوں میں بھی امداد فراہم کرنے کی اجازت دیتی ہے۔"

لیکن مذہبی شدت پسند گروپوں کی موجودگی اور ان سے لاحق خطرے کے باعث یہ نئی گزرگاہیں خطرناک ہوسکتی ہیں۔

اس نئی قرارداد میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی چھ ماہ کے لیے ایک حکمت عملی بھی وضع کی گئی جس کے تحت اس عمل پر نظر رکھے جائے گی اور تصدیق کی جائے گی کہ شام میں داخل ہونے والا سامان کلی طور پر انسانی امداد پر مشتمل ہو۔

اقوام متحدہ میں شام کے اتحاد کے خصوصی مندوب اور ان کے گروپ فری سریئن آرمی نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں میں امداد کی فراہمی کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد دیں گے۔

دمشق کے سفیر بشار جعفری نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی ہمدری کی بنیاد پر دی جانے والی امداد کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور توقع ظاہر کی کہ سرحدی گزر گاہوں کو اسلحے اور دہشت گردوں کو ملک میں منتقل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے لگ بھگ ایک کروڑ دس لاکھ لوگوں کو امداد کی ضرورت ہے جن میں اندرون ملک بے گھر ہونے والے 65 لاکھ اور 45 لاکھ ایسے افراد شامل ہیں جو ایسے علاقوں میں ہیں جہاں پہنچنا بہت مشکل ہے۔ تقریباً اڑھائی لاکھ لوگ محصور میں پھنسے ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG