رسائی کے لنکس

صدر اوباما کی پالیسیوں کے سیاسی مضمرات کا تجزیہ

  • جم میلون

صدر اوباما نے اس ہفتے کہا ہے کہ کرسمس کے روز ڈیٹرائٹ جانے والے ہوائی جہاز کو بم سے تباہ کرنے کی ناکام کوشش سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی انتظامیہ کو دہشت گردی سے زیادہ اچھی طرح نمٹنا چاہئیے۔حزب اختلاف کے ریپبلکنز نے اس واقعے کے بارے میں انتظامیہ کی کارکردگی پر تنقید کی ہے اور سیاسی تجزیہ کار اس کے سیاسی مضمرات کا جا ئزہ لے رہے ہیں۔

ہوائی جہاز کو بم سے تباہ کرنے کی د ہشت گردی کی ناکام سازش سکیورٹی کے شعبے میں مسٹر اوباما کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔ صدر نے فوری طور پر اعتراف کیا ہے کہ اصلاح کی بہت گنجائش ہے ۔انھوں نے کہا’’ہمیں اپنی کارکردگی بہتر بنانی چاہیئے اور ہم اسے بہتر بنائیں گے ۔ ہمیں یہ کام جلد کرنا ہوگا۔ امریکیوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔‘‘
حزب اختلاف کے ریپبلکنز کی نظر میںاس ناکام حملے کے سلسلے میں انتظامیہ کی کارکردگی خراب تھی۔ وہ اس واقعے کو خوب اچھالنا چاہتے ہیں کیوں کہ امریکی کانگریس کے نومبر کے وسط مدتی انتخابات کی مہم میں وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے چیئر مین، Michael Steele نے NBC ٹیلیویژن کے پروگرام، ٹوڈے میں کہا’’کسی نہ کسی مرحلے پر اس انتظامیہ کو اپنے اقدامات اور اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ داخلی اوربین الاقوامی طور پر ان کا اثر ہو رہا ہے اور آپ کو ان کا جواب دینا ہوگا۔ اور یہ وہ مرحلہ ہے جب آپ رُک جاتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ انتظامیہ کی کارکردگی کیسی ہے؟ ‘‘
یونیورسٹی آف ورجینیا کے سیاسی تجزیہ کارلیری ساباتو Larry Sabato کہتے ہیں کہ بم کے ناکام حملے سے امریکی عوام کو یہ دیکھنے کا موقع ملا ہے کہ قومی سلامتی کو درپیش خطرے کی صورت میں نئے صدر کا طرز عمل کیا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’’اوباما کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ ان کا شعبہ داخلی پالیسی ہے اور انہیں خارجہ پالیسی یا قومی سلامتی کا تجربہ نہیں ہے۔قدرتی طور پر امریکی سوچتے ہیں اور شاید یہ سوچ کر پریشان ہوتے ہیں کہ وہ ان مسائل سے کس طرح نمٹیں گے۔جب اس قسم کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو ڈیموکریٹک صدر کے لیے فوری اور فیصلہ کُن انداز میں کارروائی کرنا ضروری ہے اور صدر اوباما ایسا نہ کر سکے۔‘‘
مسٹر اوباما 2008کے صدارتی انتخاب میں بڑی حد تک اس لیے کامیاب ہوئے تھے کہ امریکی عوام تبدیلی چاہتے تھے اور انہیں ملکی معیشت کے بارے میں تشویش تھی۔ لیکن اب سکیورٹی کے مسائل زیادہ اہم ہو گئے ہیں اور اس لیے اب صدر کو نئے قسم کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔
میٹ ڈالکMatt Dallek واشنگٹن میں Bipartisan Policy Center میں سیاست کی تاریخ کے ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’قومی سلامتی سب سے بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن اب ڈیموکریٹس کو تشویش ہے کہ قومی سلامتی کے شعبے میں ریپبلیکنز کو بالادستی حاصل ہو سکتی ہے اور وہ اوباما کو سیاسی طور پر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘‘
اس مہینے کے آخر میں مسٹر اوباما اپنے عہدے کا پہلا سال مکمل کر لیں گے۔ قومی سلامتی کا چیلنج ان کے سامنے ایسے وقت میں آیا ہے جب انہیں کئی مشکلات کا سامنا ہے۔داخلی پالیسی میں صدر اوباما کے لیے اہم ترین مسئلہ علاج معالجے کے نظام میں اصلاح کا ہے ۔اس سلسلے میں قانون کی منظوری کا آخری راونڈ باقی ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکی کانگریس میں مذاکرات ہوں اور پھر اس پر بحث ہو۔اور معیشت کے شعبے میں جو ملےجُلے اشارے مل رہے ہیں ان کی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ ملک کو کساد بازاری سے نکلنے میں کتنا وقت لگے گا۔
مسٹر اوباما نے جب اپنی صدارت کا آغاز کیا اس وقت رائے عامہ کے جائزوں میں ان کی مقبولیت عروج پر تھی۔ لیری کہتے ہیں کہ حالیہ مہینوں میں ان کی مقبولیت کی شرح بتدریج کم ہوتی رہی ہے ۔ ’’اب بیشتر جائزوں کے مطابق ان کی مقبولیت کی شرح 50 فیصد یا اس سے بھی کم ہےاور اس کی اصل وجہ معیشت ہے جو اب بھی کمزور ہے ۔ بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں مسٹر اوباما کے پاس غلطی کرنے کی گنجائش باقی نہیں ۔‘‘
مسائل کے باوجود مسٹر اوباما ذاتی طور پر اب بھی مقبول ہیں۔ اگر ووٹرز ان کی پالیسیوں سے متفق نہ ہوں تو بھی ۔ دوسری طرف ریپبلکنز کے اپنے مسائل ہیں۔ انہیں نئے لیڈر تلاش کرنا ہیں اور محض صدر اور ان کی پالیسیوں کی مخالفت کے بجائے اپناکوئی مربوط اور با معنی پیغام ترتیب دینا ہے ۔
XS
SM
MD
LG