رسائی کے لنکس

9/11 کے بعد سکیورٹی سے متعلق عمومی شعور میں تبدیلی

  • مائیک سلیوان

9/11 کے بعد سکیورٹی سے متعلق عمومی شعور میں تبدیلی

9/11 کے بعد سکیورٹی سے متعلق عمومی شعور میں تبدیلی

11 ستمبر، 2001 کو دہشت گردوں کے حملوں کے بعد سیکورٹی کے بارے میں امریکیوں کے اجتماعی شعور میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے ۔ بہت سے امریکیوں کو نہ صرف نئے حملوں کا اندیشہ لگا رہتا ہے بلکہ دہشت گردی کو روکنے کے لیے جو نئے اقدامات کیے گئے ہیں ، وہ بھی ان کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

گذشتہ دس برسوں میں امریکہ میں مسافروں کو ایئر پورٹس پر سخت سیکورٹی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ بعض اقدامات پر اب بھی لوگوں میں اختلاف موجود ہے، لیکن ایک مسافرباب ڈبویس کی رائے میں یہ اقدامات ضروری ہیں۔وہ کہتے ہیں’’میں سمجھتا ہوں کہ آج کل کے حالات میں، اورمعیشت کی جو حالت ہے، ان میں یہ اقدامات ضروری ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ کون کیا کربیٹھے، اور میرے خیال میں ہمیں یہ تمام احتیاطی تدابیر کرنی چاہئیں۔‘‘

آسکر ڈل کاسٹیلومتفق ہیں کہ سیکورٹی کے نئے انتظامات ضروری ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں’’چند چیزیں ایسی ہیں جن سے میں پوری طرح مطمئن نہیں ہوں، جیسے پورے جسم کی تصویر لینا۔ تا ہم، میں ان چیزوں کی اہمیت کو سمجھتا ہوں۔‘‘

امینہ مرزا لاس انجیلیس میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کی وکیل ہیں۔ انہیں شکایت ہے کہ سیکورٹی کے سخت ضابطوں کے ذریعے، ان مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو اپنے مذہب پر کاربند ہیں۔ انھوں نے کہا’’جب میں سفر کرتی ہوں، تو مجھے تقریباً ہمیشہ الگ کر لیا جاتا ہے اور مجھے سیکورٹی میں خصوصی جامہ تلاشی کے مرحلے سے گذرنا پڑتا ہے کیوں کہ میں سر پر حجاب لیتی ہوں۔‘‘

ٹرانسپورٹیشن سیکورٹی کے عہدے دار کہتے ہیں کہ وہ خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں کو نشانہ نہیں بناتے ۔ لیکن بہت سے مسلمان کہتے ہیں کہ انہیں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ گذشتہ سال، جب سان ڈیاگو کے ایک نواحی علاقے میں ایک مسجد میں توسیع کا منصوبہ بنایا گیا، تو بستی کے لوگوں کی طرف سے احتجاج ہوئے ۔

شہری حقوق کے لیے جد وجہد کرنے والوں نے اس سال کے شروع میں ایف بی آئی پر مقدمہ دائر کر دیا کیوں کہ وہ مبینہ طور پر مسلمانوں کی نگرانی کے لیے مخبروں کو استعمال کر رہی تھی۔ ایف بی آئی کے عہدے داروں نے اس سلسلے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا لیکن وہ کہتے ہیں کہ وہ صرف اس صورت میں کارروائی کرتے ہیں جب انہیں مجرمانہ طرز عمل کا شبہ ہوتا ہے، اور ایجنٹوں کو اپنا کام مخصوص ضابطوں کے تحت کرنا ہوتا ہے۔

امریکن سول لبرٹیز یونین کے احیلان ارلنتھم کہتے ہیں کہ یہ ضابطے بہت وسیع ہیں اور ان سے لوگوں کے نجی امور میں مداخلت ہوتی ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کے بانیوں کا دور انقلابی جنگ کے بعد کشمش اور ہنگاموں سے بھر پور تھا اور وہ چاہتے تھے کہ آئین میں جو بنیادی حقوق درج ہیں ان کا پورا احترام کیا جائے۔’’اور انھوں نے جو ضابطے تخلیق کیے ان کا مقصد یہ تھا کہ ہماری حفاظت کی جائے اور اس زمانے میں بھی توازن بر قرار رکھا جائے۔‘‘

لاس انجیلیس میں ایف بی آئی آفس کے اسٹیون مارٹنز کہتے ہیں کہ کھلے معاشرے سے امریکہ کی وابستگی برقرار ہے لیکن دہشت گردی کا خطرہ بھی حقیقی ہے ۔’’اگر ہم آزادی کا احساس برقرار رکھنا چاہتے ہیں، تو ان مقامات پر جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں، جیسے تھیم پارکس، سنیما گھر، شاپنگ مال، وہاں کچھ نہ کچھ خطرہ ضرور ہو گا۔ ان مقامات پر ہمارے دشمنوں کو اپنی کارروائیوں کا موقع مل جاتا ہے، اور ان مقامات کو محفوظ بنانا بہت زیادہ مشکل کام ہے۔‘‘

سیکورٹی کے ماہر، یونیورسٹی آف سدرن کیلے فورنیا کے ارول ساٴتھرز کہتے ہیں کہ امریکہ کو نئے خطرات کا مقابلہ کرنا چاہئیے اور ان پر قابو پانا سیکھنا چاہئیے۔’’بالکل اسی طرح جیسے ہم لوگوں کو زلزلوں، آگ لگنے کے واقعات، سیلابوں اور سمندری طوفانوں کے بارے میں بتاتے ہیں ۔ یہ انسان کی اپنی لائی ہوئی آفت ہے، اور ہمیں لوگوں کو اس بارے میں تعلیم دینی چاہئیے کہ اصل خطرات کیا ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئیے کہ وہ یہ بات سمجھیں کہ وہ ان حالات میں مدد کس طرح کر سکتے ہیں۔‘‘

ساؤتھرز کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کو روکنے کے لیے عوام کی طرف سے اطلاعات ملنی ضروری ہیں، لیکن سیکورٹی کے موئثر اقدامات کے باوجود بھی امریکیوں کے حقوق کا احترام ضروری ہے ۔ مشکل بات یہ ہے کہ صحیح توازن کیسے قائم کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG