رسائی کے لنکس

پناہ گزینوں کی آمد سے متعلق بل امریکی سینیٹ میں مسترد


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اس بل میں تجویز کیا گیا تھا کہ ان پناہ گزینوں کا امریکہ میں داخلہ اس وقت تک روک دیا جائے جب تک وہ اس چھان بین کے عمل سے نہیں گزرتے جس سے کبھی بھی ان لوگوں کو نہیں گزرنا پڑا جو شورش کا شکار اپنے ملکوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔

امریکی سینیٹ نے عراق و شام سے آنے والے پناہ گزینوں کو چھان بین کے عمل سے گزارنے کے متعلق ایک بل کو مسترد کر دیا ہے۔

اس بل میں تجویز کیا گیا تھا کہ ان پناہ گزینوں کا امریکہ میں داخلہ اس وقت تک روک دیا جائے جب تک وہ سخت چھان بین کے عمل سے نہیں گزرتے جس سے کبھی بھی ان لوگوں کو نہیں گزرنا پڑا جو شورش کا شکار اپنے ملکوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ۔

سینیٹ کے ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے مل کو اس بل پر بحث کو روک دیا جس کے تحت عراقی اور شامی پناہ گزینوں کو امریکہ میں سیاسی پناہ دینے سے قبل ایف بی آئی، ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی اور ڈائریکٹر آف نیشنل انٹلیجنس کے لیے اس بات کی تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا کہ یہ سکیورٹی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔

ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ ڈربن نے کہا کہ "یہ عملی طور پر بہت مشکل ہے ہم وہ بات کریں جو اس (بل) کا مقصد ہے۔ اس کا مقصد کسی بھی شامی پناہ گزین کو امریکہ آنے سے روکنا ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ ایک بچے کے ساتھ کوئی ماں بھی ہو سکتی ہے۔"

اس بل کی حمایت میں صرف 55 ووٹ آئے جو کہ اس کی منظوری کے لیے ضروری ووٹوں سے پانچ ووٹ کم تھے۔ اس بل کی حمایت کرنے والوں کا موقف اس کے برعکس تھا۔

ریپبلکن سینیٹر جان کرونن کا کہنا تھا کہ "یہ بل پناہ گزینوں کے خلاف نہیں ہے، ہم صرف یہ چاہتے ہیں اور یہ بل میں تجویز کا گیا ہے کہ پناہ گزینوں کی چھان بین کے عمل کو بہتر کیا جائے تاکہ دہشت گرد اس نظام سے فائدہ نہ اٹھا سکیں"۔

ایوان نمائندگان نےگزشتہ سال کے اواخر میں اس بل کی منظوری دی تھی۔ اس پر رائے شماری اس وقت ہوئی تھی جب پیرس میں ہوئے دہشت گرد حملوں کے بعد دنیا میں ان خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ دہشت گرد تشدد اور شورش کے شکار علاقوں سے بھاگنے والے افراد میں شامل ہو سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ اس قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پناہ گزینوں کو پہلے ہی سے چھان بین کے ایک سخت عمل سے گزرنا پڑتا ہے جس میں دو سال تک کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ بل بیرون ملک امریکہ کے تشخص کو متاثر کرے گا۔

XS
SM
MD
LG