رسائی کے لنکس

چین پرایک بار پھر امریکہ میں سائیبر حملوں کا الزام


سینیٹر کارل لیوین

سینیٹر کارل لیوین

کمیٹی کے سربراہ سینیٹر کارل لیوین نے اس مداخلت کو "بہت پریشان کن" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سائیبر سپیس میں چین کے مبینہ طور پر جارحانہ اقدامات کا ثبوت ہے۔

امریکی سینٹ کے تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ چینی حکومت کے ہیکرز نے متعدد بار ایسی فضائی، ٹیکنالوجی اور دوسری کمپنیوں کے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کی جن کی خدمات امریکی محکمہ دفاع حاصل کرتا ہے۔

سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی طرف سے جمعرات کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ چینی ہیکرز نے ان غیر سرکاری کمپنیوں کو نشانہ بنایا جن کی خدمات امریکی فوج، عملہ اور سازوسامان دنیا بھر میں منتقل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

یہ رپورٹ جو ایک سال سے جاری تحقیق پر مبنی ہے، میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم ازکم بیس بار ایسی مداخلت کی گئی ہے جسے" بڑھتے ہوئے مسلسل خطرات" سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ان پیچیدہ اور خطرناک حملوں کو عام طور پر حکومتوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔

کمیٹی کے سربراہ سینیٹر کارل لیوین نے اس مداخلت کو "بہت پریشان کن" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سائیبر سپیس میں چین کے مبینہ طور پر جارحانہ اقدامات کا ثبوت ہے۔

چین کی طرف سے اس رپورٹ پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا ۔ یہ الزمات چین اور امریکہ کے تعلقات میں مزید تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔

چین ماضی میں اس طر ح کے الزمات کو سختی سے مسترد کرتا رہا ہے کہ اس کے ہیکرز نے امریکی کمپنیوں اور سرکاری اداروں کے کمپیوٹر نظام تک رسائی کے بعد ان کو نشانہ بنایا۔

اس سال مئی میں امریکہ نے کئی امریکی جوہری، دھات اور شمسی توانائی کی کمپنیوں کے کمپیوٹرز سے تجارتی راز کی چوری کے الزام میں چینی فوج کے پانچ ارکان پر فرد جرم عائد کی تھی۔

XS
SM
MD
LG