رسائی کے لنکس

عدالت عظمیٰ کے جج کے طور پر گورسچ کی نامزدگی کی توثیق


اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ری پبلیکن ارکان نے نام نہاد ’نیوکلیئر آپشن‘ کو روکا؛ اور سینیٹ ظابطوں کو تبدیل کر دیا، جس کا استعمال کرتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے جج کی نامزدگی روکنے کی کوشش کی تھی، جسے ’فلی بسٹر‘ کا نام دیا جاتا ہے

امریکی سینیٹ نے جمعے کے روز 54 ووٹوں کی مدد سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سپریم کورٹ کے نامزد کردہ جج، نیل گورسچ کے نام کی توثیق کر دی ہے۔ نامزدگی کی مخالفت میں 45 ووٹ پڑے، جب کہ رائے شماری کے نتائج پارٹی بازی کی ہی بنیاد پر سامنے آئے۔

توثیق کی کارروائی کے دوران، ایوان کی صدارت کے لیے، نائب صدر مائیک پینس سینیٹ کے چیمبر میں موجود تھے۔

نامزدگی کی منظوری سے ایک ہی روز قبل، ری پبلیکن پارٹی کے ارکان نے اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، نام نہاد ’نیوکلیئر آپشن‘ کو روکا؛ اور سینیٹ ظابطوں کو تبدیل کیا، جس کا استعمال کرتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان جج کی نامزدگی روکنے کی کوشش کر رہے تھے؛ جس قسم کے ایوان کی کارروائی کے انداز کو ’فلی بسٹر‘ کہا جاتا ہے۔


ضابطوں کو بدلنے کی ضرورت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے، ری پبلیکن ارکان نے کہا کہ اِس کے علاوہ اُن کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔


کنٹيکی سے تعلق رکھنے والے ری پبلیکن، اور سینیٹ میں ایوان کے قائد، مِچ مکونیل نے کہا کہ ’’ہمیں سینیٹ کے ضوابط اور روایات کو بحال کرانے کی ضرورت پڑی، چونکہ اس غیر معمولی اور یکطرفہ ’فلی بسٹر‘ کو روکنا ضروری ہوگیا تھا‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG