رسائی کے لنکس

قرضہ کی حد: ایوانِ نمائندگان سے منظور بل امریکی سینیٹ میں مسترد


امریکی سینٹ

امریکی سینٹ

ڈیموکریٹ رہنما سرکاری قرضہ کی حد کا مسئلہ دوبارہ اتنی جلدی اٹھانے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ان کا موقف ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک بار پھر ایک ایسے وقت میں سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جب صدارتی اور کانگریس کے انتخابات سر پر کھڑے ہوں گے۔

امریکہ کو نادہندہ ہونے سے بچانے کے لیے سرکاری قرضہ کی 143 کھرب ڈالرز کی مقررہ حد میں اضافہ اور اخراجات میں کٹوتی سے متعلق امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے منظور کردہ بل سینیٹ نے مسترد کردیا ہے۔

ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر جان بینر کے تجویز کردہ بل کو امریکی سینیٹ نے جمعہ کو ہونے والی رائے شماری میں 41 کے مقابلے میں 59 ووٹوں سے رد کیا۔ اس سے قبل ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی رائے شماری میں بل کے حق میں 218 اور مخالفت میں 210 ووٹ آئے تھے۔

بعد ازاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیموکریٹ رہنماؤں نے ری پبلکن اراکینِ کانگریس پر زور دیا کہ وہ سینیٹ کے اکثریتی رہنما ہیری ریڈ کے تجویز کردہ بل کی حمایت کریں۔

سینیٹر ریڈ نے اپنے بل میں سرکاری اخراجات میں 25 کھرب ڈالرز کی کٹوتی اور سرکاری قرضہ کی حد میں اتنے اضافے کی منظوری دی ہے جس کے نتیجے میں 2012ء کے اختتام تک کے سرکاری اخراجات کے لیے درکار رقم فراہم ہوسکے گی۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں سینیٹر ریڈ نے اپنے تجویز کردہ بل کو "مصالحت" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ "تباہی" کی جانب بڑھ رہا ہے جسے روکنے کے لیے ری پبلکنز کو ان کے منصوبے کی حمایت کرنا ہوگی۔

اس موقع پر ایک اور اہم ڈیمو کریٹ سینیٹر چارلس شمر کا کہنا تھا کہ سرکاری قرضہ کی حد میں کم از کم اتنا اضافہ ضرور کیا جانا چاہیے جو 2012ء کے خاتمے تک کے لیے کافی ہو۔ انہوں نے جان بینر کے تجویز کردہ منصوبے سمیت اس ضمن میں تجویز کیے جانے والے تمام عارضی انتظامات کو مسترد کیا۔

امکان ہے کہ امریکی قانون سازوں کی جانب سے آنے والے دنوں میں بھی ایک ایسے منصوبے پر اتفاقِ رائے کے حصول کی غرض سے کیے جانے والے مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا جس کے ذریعے امریکہ کو قرضوں کی عدم ادائیگی کے باعث نادہندہ ہونے سے بچایا جاسکے جس کے معیشت پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اگر سرکاری قرضہ کی حد میں منگل تک اضافہ نہ کیا گیا تو امریکہ اپنے بلز کی ادائیگی سے معذور ہوگا جس کا نتیجہ اسے نادہندہ قرار دیے جانے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔

تاہم جمعہ کی شب کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی 'موڈیز انویسٹرز سروس' کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو اس وقت تک اپنی 'ٹرپل-اے' ریٹنگ برقرار رکھنے کا حق ہونا چاہیے جب تک واشنگٹن انتظامیہ اس حوالے سے کسی منصوبے پر اتفاقِ رائے کے حصول کے لیے کام کر رہی ہے۔

جان بینر کی جانب سے پیش کردہ منصوبے میں سرکاری اخراجات میں آئندہ 10 برسوں کے دوران 900 ارب ڈالرز کی کٹوتیوں کے بدلے سرکاری قرضہ کی حد میں اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ منصوبے میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری اخراجات میں مزید کٹوتیوں پر رضامند ہوجانے کی صورت میں قرضہ کی حد میں آئندہ برس کے آغاز پر ایک بار پھر اضافہ کی پیشکش کی گئی ہے۔

ڈیموکریٹ رہنما سرکاری قرضہ کی حد کا مسئلہ دوبارہ اتنی جلدی اٹھانے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ان کا موقف ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک بار پھر ایک ایسے وقت میں سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جب صدارتی اور کانگریس کے انتخابات سر پر کھڑے ہوں گے۔

سینیٹر ہیری ریڈ

سینیٹر ہیری ریڈ

ایوانِ نمائندگان کی جانب سے منظور کردہ بل میں کانگریس سے کافی سخت مطالبات کیے گئے ہیں جن میں ایک متوازن بجٹ کے لیے آئینی ترمیم کی منظوری اور اس کی ریاستوں سے توثیق کی تجویز بھی شامل ہے جو رجعت پسند ری پبلکنز کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔

ایوانِ نمائِندگان کی جانب سے مذکورہ بل کی جمعہ کو منظوری دیے جانے کے بعد وائٹ ہاؤس سے جاری کیے گئے اپنے ردِ عمل میں امریکی صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے نتیجے میں امریکہ آئندہ چند ماہ بعد ایک بار پھر اسی طرز کے بحران کا شکار ہوگا۔

صدر نے اپنے بیان میں سینیٹر ہیری ریڈ کی جانب سے تجویز کردہ منصوبے کی تعریف کی۔

XS
SM
MD
LG