رسائی کے لنکس

سینیٹ میں ڈیموکریٹ لیڈر کی طرف سے مسجد کی تعمیر کی مخالفت

  • ب

سینیٹر ہیری ریڈ

سینیٹر ہیری ریڈ

گراؤنڈ زیروکے قریب تعمیر کیے جانے والے مسلمانوں کے ثقافتی مرکز پر دس کروڑڈالر لاگت آئے گی اور مسجد کے علاوہ یہاں پانچ سو افراد کے لیے ایک ہال، کھیلوں کی سہولت، تھیٹر اور ریستوران بھی ہو گا اوریہاں تما م سیاحوں کو داخلے کی اجازت ہو گی

امریکی سینیٹ میں حکمران ڈیموکریٹ پارٹی کے لیڈرسینیٹر ہیری ریڈ نے نیویارک میں اُس جگہ پر اسلامی ثقافتی مرکز اور مسجد تعمیر کرنے کے منصوبے کی مخالفت کردی ہے جو11 ستمبر 2001 ء میں دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنی تھی اور جو اب ’گراؤنڈ زیرو‘ کہلاتی ہے۔

سینیٹر ریڈ کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سینیٹ میں قائد ایوان آزادیء مذہب کے امریکی قانون کو سراہتے ہیں لیکن اس کے باوجود اُن کے خیال میں مسجد کسی دوسری جگہ پر تعمیر کی جائے۔

امریکہ میں نومبر میں ہونے والے انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کے لیے سینیٹر ریڈ کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

گذشتہ ہفتے صدر بارک اوباما نے کہا تھا کہ وہ نیویارک میں نجی جائیداد پرعبادت گاہ اور کمیونٹی سینٹر تعمیر کرنے کے مسلمانوں کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن انھوں نے کہا کہ وہ ایسے اقدام کی ”سوچ “ پر تبصرہ نہیں کریں گے۔

امریکی صدر کا یہ بیان اُس بیان سے بظاہر پسپائی ہے جو انھوں نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں افطار ڈنر کے موقع پر دیاتھا اور جس میں انھوں نے کہا تھا کہ آزادی مذہب کے بارے میں امریکہ کا عزم غیر متزلزل ہے۔

رپبلکن پارٹی کے اراکینِ کانگریس ’گراؤنڈ زیرو‘ پر مسلمانوں کے ثقافتی مرکز اور مسجد کی تعمیر کے منصوبے پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔ سینیٹر جان کورنین کا کہنا ہے کہ ایک ایسی جگہ پر مسجد تعمیر کرنا جہاں 2600 امریکی ہلاک ہوئے تھے غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔لیکن اس کے باوجود اس اقدام کی حمایت کرنے پر انھوں نے صدر اوباما کو ایک ایسا لیڈر قرار دیا جس کا امریکی عوام کی اکثریتی سوچ سے رابطہ ٹوٹا ہوا ہے۔

رپبلکن سینیٹر پیٹر کنگ نے صدر اوباما پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے موقف سے انحراف کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسجد تعمیر کرنے والے دہشت گردانہ حملوں سے لگنے والے زخموں پر ”نمک پاشی“ کر رہے ہیں۔

امریکہ میں رائے عامہ کے جائزوں میں 68 فیصد امریکیوں نے مسجد کی تعمیر کی مخالفت کی ہے اور زیادہ تر کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اُن امریکیوں کی بے حرمتی کے مترادف ہے جو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

گراؤنڈ زیروکے قریب تعمیر کیے جانے والے مسلمانوں کے ثقافتی مرکز پر دس کروڑڈالر لاگت آئے گی اور مسجد کے علاوہ یہاں پانچ سو افراد کے لیے ایک ہال، کھیلوں کی سہولت، تھیٹر اور ریستوران بھی ہو گا اوریہاں تما م سیاحوں کو داخلے کی اجازت ہو گی۔

پیر کو ایک بیان میں نیویارک کے میئر مائیکل بلومبرگ نے کہا تھا کہ اگر مخالفین نے مسلمانوں کے ثقافتی مرکز کی تعمیر کو روکا تو یہ امریکہ کے لیے ایک ”افسوس ناک دن “ ہو گا۔

مئیر بلومبرگ اور منصوبے کے دوسرے حامیوں کا موقف ہے کہ اس کی وجہ سے مغر ب اور مسلمان دنیا میں خلیج کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG