رسائی کے لنکس

امریکہ نے بحیرہ جنوبی چین میں اپنا طیارہ بردار جہاز بھیج دیا


یو ایس ایس جان سی اسٹینس (فائل فوٹو)

یو ایس ایس جان سی اسٹینس (فائل فوٹو)

بیجنگ کی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ "اگر آپ معاملے کا قریب سے جائزہ لیں تو یہ امریکہ ہے جو انتہائی جدید طیارے اور عسکری کشتیاں بحیرہ جنوبی چین میں بھیج رہا ہے۔"

امریکہ نے بحیرہ جنوبی چین میں اپنا ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور دیگر معاون کشتیاں تعینات کی ہیں جس کا مقصد بظاہر چین کو اپنی طاقت دکھانا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جان سی اسٹینس نامی بحری جہاز سمیت چار جہاز رواں ہفتے ان متنازع پانیوں میں آئے تھے۔

بیجنگ تقریباً پورے بحیرہ جنوبی چین پر ملکیت کا دعویدار ہے۔ امریکہ اس پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ دیگر دعویداروں سے نمٹنے کے لیے یہاں عسکری سرگرمیاں کر رہا ہے۔

گزشتہ ماہ جب چین نے یہاں زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل نظام نصب کیا تھا تو بحرالکاہل میں امریکی کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ہیری ہیرس نے کانگریس کو مطلع کیا تھا کہ چین واضح طور پر سمندر میں فوجی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔

چین ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ امریکہ مبینہ طور پر خطے میں کشیدگی پیدا کر رہا ہے۔

بیجنگ کی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ "اگر آپ معاملے کا قریب سے جائزہ لیں تو یہ امریکہ ہے جو انتہائی جدید طیارے اور عسکری کشتیاں بحیرہ جنوبی چین میں بھیج رہا ہے۔"

ترجمان نے متنبہ کیا کہ اس طرح کا اقدام "غلط اندازوں" کو جنم دے گا۔

بحرالکال میں امریکی بیڑے کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکہ خطے میں بشمول بحیرہ جنوبی چین میں کئی دہائیوں سے معمول کا گشت کرتا آیا ہے۔

امریکی وزیردفاع ایش کارٹر نے جمعہ کو امریکی فوجیوں سے کے ایک گروپ سے گفتگو میں کہا تھا کہ چین کا ایک خوشحال قوم کے طور پر ابھرنا ٹھیک ہے لیکن چین کا جارحانہ رویہ درست نہیں "ہمارے دیگر کئی شراکت دار۔۔۔کسی بھی اضافی سرگرمی پر نظر رکھنے کے لیے ہماری طرف دیکھتے ہیں۔"

بحرالکال کے تقریباً چھ ممالک بشمول ویتنام اور فلپائن بحیرہ جنوبی چین کے مختلف علاقوں پر حق ملکیت کے دعویدار ہیں۔

XS
SM
MD
LG