رسائی کے لنکس

ابو جندال الکویتی امریکی قیادت والے اتحاد کے لڑاکا طیاروں کے نشانے پر تھا، اور داعش کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر رپورٹ میں اُس کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے

امریکی حکام نے اِس سے قبل موصولہ اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اِس ہفتے شام میں داعش کے فی الواقع دارالحکومت، رقہ میں فوجی اتحاد کی جانب سے ہونے والے فضائی حملے میں، دولت ِاسلامیہ کا ایک چوٹی کا رہنما ہلاک ہوا۔
امریکی قیادت والے اتحاد نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ پیر کے روز طبقہ ڈیم کے قریب ہونے والے فضائی حملے میں ابو جندال الکویتی ہلاک ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ اِس سے قبل، وہ داعش کی کمیٹی برائے جنگ و جدل کا رُکن تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "ابو جندال شام کی سیرئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کی بکتربند گاڑیوں پر خودکش حملے کرنے اور کیمیائی ہتھیاروں کےاستعمال میں مہارت رکھتا تھا۔ داعش کے دہشت گرد گروپ کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی منصوبہ سازی اور لڑائی پر قائم کونسل کے ارکان سے قربت کےباعث، اُن کی ہلاکت رقہ کے دفاع کی داعش کی صلاحیت اور مغرب کے خلاف بیرونی کارروائیاں جاری رکھنے پر اثرانداز ہوگی‘‘۔

اتحاد نے بتایا ہے کہ الکویتی نے پلمیرہ پر دوبارہ قبضے کے حصول کی لڑائی میں بھی شرکت کی تھی، جِس کے بعد اُسے امریکی حمایت یافتہ، ’ایس ڈی ایف‘ کے خلاف دولت ِاسلامیہ کی دفاعی طاقت میں بہتری لانے کے مشن پر طبقہ روانہ کیا گیا تھا۔

شام کی لڑائی پر نظر رکھنے والے، برطانیہ میں قائم ادارے،’سیرئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے منگل کو رپورٹ دی ہے کہ الکویتی امریکی قیادت والے اتحاد کے لڑاکا طیاروں کے نشانے پر تھا، اور داعش کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر رپورٹ میں اُن کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG