رسائی کے لنکس

امریکہ میں 30 کروڑ سے زائد افراد کی گنتی جاری

  • الزبیتھ لی

امریکہ میں 30 کروڑ سے زائد افراد کی گنتی جاری

امریکہ میں 30 کروڑ سے زائد افراد کی گنتی جاری

امریکہ میں ہر دس سال میں ایک بارمردم شماری ہوتی ہے ۔ آج کل امریکہ میں رہنے والے 30 کروڑ سے زیادہ لوگوں کی گنتی کی جا رہی ہے اور انھیں مختلف نسلی گروہوں میں رکھا جا رہا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی آبادی میں بعض اہم تبدیلیاں آرہی ہیں اور 2050ء تک امریکہ کی اقلیتی آبادی اکثریت میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس سال بہت سے اقلیتی گروہوں کی کوشش ہے کہ ان کے تمام ارکان گنتی میں شامل ہوں۔

امریکہ میں ہسپانوی زبان بولنے والوں کی آبادی میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ان لوگوں کو ہسپانکس یا لاطینو کہا جاتا ہے اور یہ لاطینی امریکہ کے ملکوں سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں ۔ ان کی آبادی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں میں شرح پیدائش بہت زیادہ ہے۔ سفید فام آبادی میں بچو ں کی پیدائش اور اموات کی شرح برابر ہے۔ ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو ایک فرد مر چکا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہسپانکس میں ہرایک موت کے عوض دس بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح امریکہ کی کُل آبادی میں سفید فام امریکیوں کا تناسب کم ہوتا جا رہا ہے اور ہسپانکس کا بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

آبادی کے ماہرین کہتے ہیں کہ آبادی میں اس تبدیلی کی بڑی وجہ تعلیم اورآمدنی ہے۔ سفید فام اکثریت سے تعلق رکھنے والی عورتیں عام طور سے تعلیم یافتہ ہوتی ہیں اورمختلف پیشوں میں کام کرتی ہیں۔ ایسی عورتوں کے بچے کم ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلےمیں کم تعلیم یافتہ اور کم آمدنی والی عورتوں کے ہاں بچے زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسی بیشتر عورتوں کا تعلق اقلیتی گروہوں سے ہوتا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں دو زبانوں والے سینٹرونیا اسکول میں زیرِ تعلیم بچوں کے 78 فیصد گھرانے خود کو لاطینو سمجھتے ہیں۔ آبادی کے ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ میں بیشتر لاطینو میکسیکو سے آئے ہیں۔ نئے آنے والے اب میکسیکو سے ملی ہوئی امریکی ریاستوں میں نہیں رکتے۔ وہ امریکہ کی وسطی ریاستوں کے زرعی علاقوں میں چلے جاتے ہیں جہاں انہیں روزگار مِل جاتا ہے۔ پاپولیشن ریفرنس بیورو کے کارل ہوب کہتے ہیں کہ ’’ہوتا یہ ہے کہ سفید فام نوجوان کھیتوں میں کام کرنا نہیں چاہتے۔ 40 یا 50 برسوں میں آپ کو ملک میں بہت زیادہ ہسپانک چہرے نظر آنے لگیں گے۔ میرے خیا ل میں آ نے والے برسوں میں آبادی میں اکثریت کا تصور بڑی حد تک ختم ہو جائے گا‘‘۔

اس سال امریکہ کے سینسس بیورو نے خاص طور سے کوشش کی ہے کہ اقلیتوں کی گنتی پوری ہو ۔ ہسپانوی اور روسی زبان سمیت 62 زبانوں میں مردم شماری کے بارے میں وڈیو اور دوسری چیزیں تیار کی گئی ہیں تا کہ دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے لوگ مردم شماری کے طریقے کو اچھی طرح سمجھ لیں اور کوئی گنتی میں شامل ہونے سے رہ نہ جائے۔

واشنگٹن کے نواح میں فالز چرچ کے علاقے میں بہت سے مسلمان دارالحجرہ اسلامک سینٹر میں نماز پڑھنے آتے ہیں۔ شیخ محمد الحنوطی نمازیوں کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ مردم شماری کے فارم ضرور بھریں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’آپ کو مردم شماری میں حصہ لینا چاہیئے۔ کوئی دقت ہو تو لوگ آپ کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ اگر آپ دلچسپی لیں گے تو اس طرح آپ اپنے بچوں اور اپنے گھرانے کی مدد کریں گے‘‘۔

قانون کے تحت جوکوئی بھی امریکہ میں موجود ہے اس کی گنتی ہونی چاہیئے۔ اس میں غیرقانونی تارکینِ وطن بھی شامل ہیں۔ لیکن عام طور سے تارکین وطن سرکاری حکام سے خائف رہتے ہیں۔

دارالحجرہ کے امام الحنوطی نئے آنے والے مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ انہیں امریکی جمہوریت کے ہر پہلو میں شرکت کرنی چاہیئے ’’ اگر آپ کسی دوسرے ملک میں رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس ملک کی زندگی میں مکمل طور سے عام شہریوں کی طرح رہنا چاہیئے‘‘۔

امریکہ میں عام زندگی گزارنے کے بہت سے معنی ہو سکتے ہیں۔ اس میں اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنا بھی شامل ہے۔ مسلمانوں کی طرح امریکہ میں سکھوں کی آبادی بھی بڑھ رہی ہے۔

مردشماری کے بیوروکا کہنا ہے کہ سکھ ایک مذہبی گروپ کے رکن ہیں۔ لیکن قانوناً مردم شماری میں کسی سے اس کے مذہب کے بارے میں نہیں پوچھا جا سکتا۔ یہ بات جسپریت سنگھ کو پسند نہیں ’’میں اپنی کمیونٹی کے مفاد کی وکالت کرتا ہوں۔ جب میں کسی کانگریس مین یا سینیٹر سے ملتا ہوں تو وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میری ڈسٹرکٹ میں کتنے سکھ رہتے ہیں اور میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہوتا‘‘۔

امریکہ میں مختلف گروہوں کے بار ے میں جاری بحث مردم شماری کے نتائج سے متاثر ہوتی ہے۔ اقلیتی گروہ کوشش کر رہے ہیں کہ وہ آبادی کی گنتی میں شامل ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجموعی آبادی میں سفید فام لوگوں کا تناسب کم ہوتا جا رہا ہے ۔ مردم شماری کے بیورو نے پیش گوئی کی ہے کہ اس صدی کے وسط تک، آج کی اکثریت اقلیت میں تبدیلی ہو جائے گی۔

XS
SM
MD
LG