رسائی کے لنکس

11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے ’پاکستان پر اثرات‘


پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کہتے ہیں کہ ملک کو دہشت گردی کے خلاف نا صرف بھاری جانی نقصان اُٹھانا پڑا بلکہ اُن کے بقول ملکی معیشت کو بھی تقریباً 107 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

امریکہ میں گیارہ ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کو رواں ہفتے 15 سال مکمل ہو جائیں گے، شدت پسند تنظیم 'القاعدہ' کی جانب سے کیے جانے والے ان حملوں میں لگ بھگ تین ہزار افراد مارے گئے تھے۔

ان حملوں کےبعد امریکہ نے افغانستان میں موجود القاعدہ کی قیادت اور طالبان کے خلاف جب جنگ کا آغاز کیا تو پاکستان نے بھی امریکہ کے قریبی اتحادی کے طور پر اس عالمی لڑائی میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس عالمی جنگ کا حصہ بننے کے سبب اسے گزشتہ 15 سالوں میں بدترین دہشت گردی کا سامنا رہا۔۔۔۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ’نائین الیون‘ سے قبل بھی دہشت گردی کا سامنا تھا لیکن اس کی نوعیت زیادہ تر فرقہ وارانہ تھی۔

انسٹیٹویٹ آف پیس اسٹیڈیز کے سربراہ عامر رانا نے کہتے ہیں کہ نائین الیون کے بعد پاکستان میں سرگرم بہت سی شدت پسند تنظیموں کو ایک نئی زندگی ملی۔

’’یہ بے جا نہیں ہو گا کہ نائین الیون کے بعد (بہت سے عسکریت پسندوں) کو ایک نئی زندگی ملی۔۔۔۔ کیوں کہ ان کے نظریات میں بھی ایک تبدیلی آئی۔۔۔ وہ گروپ جو القاعدہ سے رابطوں سے ہچکچاہٹ کا شکار تھے وہ القاعدہ سے ملے۔‘‘

عامر رانا کہتے ہیں کہ نائین الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی پالیسی میں واضح تبدیلی دیکھی گئی۔

’’پہلے شروع میں پرسیپشن رہا کہ شاید ہم ان گروہوں کی دہشت گردی کو آسانی سے کنٹرول کر سکتے ہیں، جس طریقے سے نائن الیون سے پہلے فرقہ وارانہ گروہوں کو قابو کیا۔۔۔۔ تو اس پرسیپشن کو ٹھیک ہونےمیں تقریباً آٹھ سال لگے۔۔۔ جب جنرل کیانی نےسوات اور جنوبی وزیرستان آپریشن لانچ کیا تو یہ اُس سے یہ واضح ہوا کہ اب اس کو ایک سرجری کی ضرورت ہے جو دہشت گردی پھیل گئی ہے۔‘‘

پاکستانی فوج کے ترجمان لفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کہتے ہیں کہ ملک کو دہشت گردی کے خلاف نا صرف بھاری جانی نقصان اُٹھانا پڑا بلکہ اُن کے بقول ملکی معیشت کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔

’’ ہم نے پوری قوم نے جو اس کی قیمت برداشت کی صرف اقتصادی مد میں کوئی 106.9 ارب ڈالرز ہم نے قیمت ادا کی اس جنگ کی۔۔۔۔ آج اگر پاکستان کے اوپر کوئی انگلی اُٹھاتا ہے یا پاکستان کی عزم کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو ان کو یہ پاکستان کی قربانی دیکھنی چاہیئے۔‘‘

نقصان صرف جانی و مالی ہی نہیں ہوتا۔۔۔۔ بلکہ تعلیمی حلقوں اور مبصرین کا ماننا ہے کہ خوف کی فضا سوچنے اور سمجھنے کے عمل کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے ۔

’’یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ ایک جنگ لڑ رہے ہوں اور اس کی کوئی قیمت نہ ہو ۔۔۔۔ہماری خاص طور پر کچھ صنعتیں تھیں قبائلی علاقوں میں بھی دیگر اضلاع میں، وہ بہت زیادہ متاثر ہوئی ہیں اس کے علاوہ پورا کا پورا جو لوگوں کے سوچنے کا انداز جو ہے اس پر بہت زیادہ فرق پڑا ہے ایک خوف کا عنصر جو ہے وہ ظاہر ہے قاتل ہوتا ہے معاشروں کے لیے فرد کی تخیلقی صلاحیتیوں کے لیے، اس کا سماجی بھی اثر ہوتا ہے ہے اور اس کی وجہ سے ظاہر ہے کہ اس کے سیاسی اثرات بھی ہمارے ہاں رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے اندر بلوچستان کے اندر تو زیادہ اس کے اثرات محسوس کیے گئے۔‘‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی جنگ میں شمولیت کا فیصلہ تو پاکستان نے ’نائین الیون‘ کے فورا بعد ہی کر لیا تھا لیکن معاشرے کو ساری صورت حال میں ڈھلنے اور لڑائی کو اپنی جنگ سمجھنے میں بہت وقت لگا۔

تاہم اس عمل کا ایک فائدہ ضرور ہوا کہ نا صرف قومی اداروں کو اس بات کا ادارک ہوا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے طویل المدتی اقدامات ضروری ہیں، بلکہ عوام میں بھی یہ احساس پروان چڑھا کہ عالمی برادری کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی معاشرے سے شدت و انتہا پسندانہ رجحانات کو ختم کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG