رسائی کے لنکس

بجٹ کٹوتی اور بین الاقوامی امریکی امداد کا مستقبل

  • تاتینا وروزکو

ترقیاتی سرگرمیوں میں کارپوریشنز بھی زیادہ حصہ لینے لگی ہیں، خاص طور سے ایسی آبادیوں میں جہاں وہ کاروبار کرتی ہیں، اور چاہتی ہیں کہ لوگ اس قابل ہو جائیں کہ ان کی اشیاء خرید سکیں۔

امریکہ میں حال ہی میں وفاقی بجٹ میں لازمی کٹوتیوں پر عمل شروع ہوا ہے ۔ بجٹ میں 85 ارب ڈالر کی اس لازمی کٹوتی سے جسے ’سوکوئسٹریشن‘ کا نام دیا گیا ہے، ملک کے اندر بہت سے سرکاری پروگرام متاثر ہوئے ہیں اور بین الاقوامی امداد اور ترقیاتی کوششیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بین الاقوامی امداد کا مستقبل اب بھی تابناک ہے۔

دوسری تمام وفاقی ایجنسیوں کی طرح، امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی یعنی یو ایس ایڈ کو بھی سیکوئسٹریشن کے نتیجے میں اپنے بجٹ میں کمی کرنی پڑی ہے۔ یو ایس ایڈ کے بجٹ میں چار فیصد کمی سے امریکہ کی طرف سے دی جانے والی غیر ملکی امداد کم ہو جائے گی، لیکن بہت سے منصوبے جن پر پہلے ہی کام شروع چکاہے، فوری طور پر متاثر نہیں ہوں گے کیوں کہ یو ایس ایڈ دو سال تک کے فنڈز پیشگی فراہم کر دیتی ہے۔

بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے جارج انگرام کہتے ہیں کہ اگر یو ایس ایڈ اور دوسری امدادی اور ترقیاتی پروگراموں کے بجٹ میں معمولی سی کمی ہوئی تو بھی اس کٹوتی سے جیتے جاگتے لوگوں کی زندگیاں اور صحت متاثر ہو گی۔

’’سب سے زیادہ اثر صحت کے شعبے میں پڑے گا کیوں کہ ترقیاتی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ اسی پروگرام کو جاتا ہے ۔ صحت کے شعبے میں 40 کروڑ ڈالر کم ہو جائیں گے جو کوئی معمولی رقم نہیں ہے ۔ دوسرا شعبہ انسانی بھلائی کی امداد کا ہے جس میں 20 کروڑ ڈالر کم ہو جائیں گے ۔ ان دونوں کٹوتیوں کے نتائج بڑے اہم ہوں گے کیوں کہ ان دونوں شعبوں میں ہم زندگی اور موت جیسے حالات کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘

راج کمار بین الاقوامی امداد پر تحقیق کرنے اور رپورٹ کرنے والی تنظیم Devex کے صدر ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ سب سے زیادہ نقصان ایچ آئی وی/ایڈز کے مریضوں کو برداشت کرنا پڑے گا ۔ ’’ہم جس دنیا میں رہتے ہیں اس میں 3 کروڑ لوگ ایچ آئی وی کے ساتھ زندہ ہیں ۔ ان میں سے بہت سوں کا انحصار امریکہ کی بین الاقوامی امداد پر ہے۔‘‘

بین الاقوامی امداد کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن جیسی پرائیویٹ فلاحی تنظیموں کا رول زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے ۔ ترقیاتی سرگرمیوں میں کارپوریشنز بھی زیادہ حصہ لینے لگی ہیں، خاص طور سے ایسی آبادیوں میں جہاں وہ کاروبار کرتی ہیں، اور چاہتی ہیں کہ لوگ اس قابل ہو جائیں کہ ان کی اشیاء خرید سکیں۔

پھر بھی ان کوششوں سے وہ خلا مکمل طور سے پُر نہیں ہو گا جو امریکی حکومت کی امداد میں کمی سے پیدا ہوا ہے، خاص طور سے صحت اور قدرتی آفات کے شعبے میں۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے جارج انگرام کہتے ہیں’’جب کسی قدرتی آفت کی وجہ سے انسانی مصائب کا بحران پیدا ہوتا ہے، تو نجی شعبہ آگے بڑھ کر طبی دیکھ بھال، غذا، اور پانی فراہم نہیں کرتا ۔‘‘

اگرچہ بہت سے امریکی غیر ملکی امداد پر تنقید کرتے ہیں، لیکن عام لوگ امداد کے بہت سے مقاصد کے حامی ہیں۔ جارج انگرام کا کہنا ہے کہ ’’امریکہ کے لوگ صحت کے مسائل، تعلیم، چھوٹے کاروبار، جمہوریت کے فروغ اور اقتصادی ترقی میں دوسرے ملکوں کی امداد کے زبردست حامی ہیں ۔ امریکی غیر ملکی امداد کو پسند نہیں کرتے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ اس کے تمام اجزا کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘

ڈیویکس کے راج کمار کہتے ہیں ’’جو لوگ قومی سیکورٹی کی پر زور حمایت کرتے ہیں، وہ روایتی طور پر زیادہ قدامت پسند، ریپبلیکن امید وار ہوتے ہیں۔ یہ لوگ غیر ملکی امداد کے بھی حامی ہوتے ہیں کیوں کہ ان کے نزدیک یہ قومی سلامتی کی اور دہشت گردی کے خلاف وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہوتی ہے۔‘‘

اور اگرچہ سیاسی مباحثوں میں غیر ملکی امداد پر تنقید کرنا لوگوں کا محبوب مشغلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امداد کی کُل رقم امریکہ کے کل بجٹ کا ایک فیصد بنتی ہے۔
XS
SM
MD
LG