رسائی کے لنکس

یہ کہنا قبل از وقت ہوگا آیا داعش امریکہ میں موجود ہے: وائٹ ہاؤس


ترجمان: ’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا تا کہ ہمیں اصل حقائق کا پتا چلے۔ انتہاپسند لوگ دنیا بھر میں موجود ہیں، جس میں سے کچھ داعش کے ساتھ منسلک ہیں، جو سماجی میڈیا کی طرف سے دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ رابطے کی سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس میں امریکہ کے اندر کے لوگ بھی شامل ہیں‘

وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا، آیا اتوار کے روز امریکہ کی جنوب مغربی ریاست، ٹیکساس میں پیغمبر اسلام کے خاکوں سے متعلق مقابلے کی تقریب پر ہونے والے حملے کے پیچھے داعش کا ہاتھ تھا۔

اس انتہاپسند گروپ نے یہ دعویٰ منگل کے روز اپنے ریڈیو اسٹیشن پر کیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خلافت کے دو سپاہیوں نے ڈیلاس سے باہر، گارلینڈ میں شوٹنگ کی کارروائی کی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ یہ امریکی سرزمین پر کیا جانے والا پہلا حملہ ہے، جب کہ آئندہ بدترین حملہ ہوگا۔

وائٹ ہاؤس ترجمان، جوش ارنیسٹ نے کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ اس بات کے اعلان پر آمادہ نہیں آیا داعش امریکہ میں آچکا ہے۔

بقول اُن کے، ’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ ہمیں اصل حقائق کا پتا چلے۔ انتہاپسند لوگ دنیا بھر میں موجود ہیں، جس میں سے کچھ داعش کے ساتھ منسلک ہیں، جو سماجی میڈیا کی طرف سے دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ رابطے کی سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس میں امریکہ کے اندر کے لوگ بھی شامل ہیں۔‘

پولیس نے گولیاں چلانے والوں کی شناخت ایلٹن سمپسن اور نادر صوفی بتائی ہے۔ دونوں نے کانفرنس سینٹر پر فائرنگ کرکے ایک محافظ کو زخمی کیا تھا، جس پر پولیس نے جوابی فائرنگ کرکے اُنھیں ہلاک کیا۔

عدالت کی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ سمپسن پر سنہ 2006 سے نظر رکھی جارہی تھی اور اُنھیں صومالیہ میں پُرتشدد جہاد میں شمولیت کی خواہش کے بارے میں ایف بی آئی کے ایجنٹس کے ساتھ غلط بیانی کرنے پر سنہ 2010میں سزا سنائی گئی تھی۔

تصویری خاکوں کے مقابلے کا انتظام ’امریکن فریڈم ڈفنس اِنی شئیٹو‘ نامی ایک گروپ نے کیا تھا، جس نے پیغمر اسلام سے متعلق بہترین خاکے پر 10000 ڈالر انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔

مسلمان پیغمبر سے متعلق نقش کشی کو بے حرمتی خیال کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG