رسائی کے لنکس

امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں اس فیصلے پر یہ کہتے ہوئے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ ویت نام حکومت پر تنقید کرنے والوں کو خاموش کرنے کے لیے نقض امن کے قوانین کو استعمال کر رہا ہے۔

امریکہ نے ویتنام کو تین سیاسی کارکنوں کو تین سال تک کی قید کی سزا دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ان سیاسی کارکنوں پر ٹریفک میں خلل ڈالنے کا الزام تھا۔ ان سیاسی مخالفین کو رواں سال کے اوائل میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر ایک قافلے کی شکل میں سابق سیاسی قیدی کو ملنے کے لیے جارہے تھے۔

جنوبی صوبے ڈانگ تھاپ کی ایک عدالت نے منگل کو ان کو نقض امن کا مجرم ٹھہرایا۔ بیوتھی من ہانگ جو ان تینوں میں سب سے نمایاں ہیں، کو تین سال قید کی سزا دی گئی ہے اورتھیو کیون کو دو جبکہ وان من کو ڈھائی سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

ہنوئی میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں اس فیصلے پر یہ کہتے ہوئے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ ویت نام حکومت پر تنقید کرنے والوں کو خاموش کرنے کے لیے نقض امن کے قوانین کو استعمال کر رہا ہے۔

بیان میں ویت نام سے ان تین سیاسی کارکنوں کے ساتھ ساتھ دوسرے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی ان سزاؤں پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی ہے کہ ویت نام" ٹریفک کی فرضی خلاف ورزیوں کو سیاسی مخالفین کو سزا دینے کے لیے استعمال کر رہا ہے"۔

گزشتہ سال سے ویت نام نے کئی سیاسی مخالفین جن میں حکومت پر تنقید کرنے والے بھی شامل ہیں کو رہا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اراکین کو سزا دینے کا عمل بھی سست ہوا ہے۔

امریکہ ویت نام کے ساتھ اپنے سفارتی اور دفاعی تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے جبکہ ویت نام کا چین کے ساتھ علاقائی تنازع بھی ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے ویت نام کی کمیونسٹ حکومت کی طرف سے آزادی اظہار اور مذہبی آزادیوں کو محدود کرنے کے حوالے سے بھی بار بار تنقید کی ہے۔

XS
SM
MD
LG